آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 220

روحانی خزائن جلده ۲۲۰ آئینہ کمالات اسلام (۲۲۰) مناسبت پیدا کر لے گا سو یہی سن ۱۲۷۵ ہجری جو آیت وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے اس عاجز کی بلوغ اور پیدائش ثانی اور تو تد روحانی کی تاریخ ہے جو آج کے دن تک چونتیس برس ہوتے ہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ کا لفظ جمع ہے پھر ایک پر کیونکر اطلاق پاسکتا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کا ایک پر اطلاق کر دیا ہے کیونکہ آپ نے اس آیت کی شرح کے وقت سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ فارس کے اصل سے ایک ایسا رجل پیدا ہو گا کہ قریب ہے جو ایمان کو ثریا سے زمین پر لے آوے بھنے وہ ایسے وقت میں پیدا ہوگا کہ جب لوگ باعث شائع ہو جانے فلسفی خیالات اور پھیل جانے دہریت اور ٹھنڈے ہو جانے الہی محبت کے ایمانی حالت میں نہایت ضعیف اور سکتے ہو جائیں گے تب خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ سے اور اس کے وجود کی برکت سے دوبارہ حقیقی ایمان لوگوں کے دلوں میں پیدا کرے گا گویا گم شدہ ایمان آسمان سے پھر نازل ہوگا ۔ اور قرآن کریم میں جمع کا لفظ واحد کے لئے آیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُمت کہا گیا ہے حالانکہ وہ ایک فرد تھے ماسوا اس کے اس آیت میں اس تفہیم کی غرض سے بھی یہ لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ تا ظاہر کیا جائے کہ وہ آنے والا ایک نہیں رہے گا بلکہ وہ ایک جماعت ہو جائے گی جن کو خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو گا اور وہ اس ایمان کی رنگ و بو پائے گی جو صحابہ کا ایمان تھا۔ اب پھر ہم پر چہ نور افشاں کے بے بنیاد دعوئی کے ابطال کی غرض سے لکھتے ہیں کہ اگر اس محرف مبدل انجیل کی نسبت جو عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے خاموش الجمعة ٤