آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 160
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۶۰ آئینہ کمالات اسلام ۱۲۰ کی عظمت نگہ نہیں رکھتے وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ امانت اگر سراسر خیر ہے تو اس کا قبول کر لینا ظلم میں کیوں داخل ہے اور اگر امانت خود شر اور فساد کی چیز ہے تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کی جاتی ہے۔ کیا خدا تعالیٰ نعوذ باللہ فساد کا مبدا ہے اور کیا جو چیز اس کے پاک چشمہ سے نکلتی ہے اس کا نام فساد اور شر رکھنا چاہیے ؟ ظلمت ظلمت کی طرف جاتی ہے اور نور نور کی طرف سو امانت نور تھی اور انسان ظلوم جمول بھی ان معنوں کر کے جو ہم بیان کر چکے ہیں ایک نور ہے اس لئے نور نے نور کو قبول کر لیا ۔ وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملا یک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں کے ہی منکر ہیں اور بعض اگر چہ زبان سے قائل ہیں مگر ان کے اعمال اور خیال اور ہاتھ اور پیر گواہی دے رہے ہیں کہ وہ اللہ جل شانہ پر ایمان نہیں رکھتے اور دن رات دنیا کی فکروں میں ایسے لگے ہوئے ہیں کہ مرنا بھی یاد نہیں اس کا بھی یہی سبب ہے کہ اکثر حاشیه دلوں پرعلت چھا گئی ہےاور نور عرف کا ایک ذرا لوں میں باقی نہیں رہا۔ اب واضح ہو کہ ہم ملائک کی ضرورت وجود کا ثبوت بکلی دے چکے جس کا ماحصل یہ ہے پر تقسیم کیا جائے۔ یہ خیال بھی گویا ایک الہامی تحریک تھی جو الہی تقسیم کے لئے بطور شاہد ہے۔ اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں جو خدا تعالیٰ نے کئی بار فرمایا ہے کہ ہم نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا تو یہ امر ضعف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ معاً اس کے ارادہ کے ساتھ ہی سب کچھ ہو جانا لازم ہے جیسا کہ وہ آپ ہی فرماتا ہے إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ یعنی جب خدا تعالیٰ ایک چیز کے ہونے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا امرایسی قوت اور طاقت اور قدرت اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ اس چیز کا يس : ۸۳ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے'چیز کو ہونا چاہیے۔(ناشر)