آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 159
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۵۹ آئینہ کمالات اسلام ظالم اور جاہل انبیاء اور رسول تھے جنہوں نے سب سے پہلے اس امانت کو اٹھا لیا حالانکہ (۱۵۹) اللہ جل شانہ آپ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے پھر وہ سب سے بدتر کیونکر ہوا اور انبیاء کو سید العادلین قرار دیا ہے پھر وہ ظلوم وجہول دوسرے معنوں کی رو سے کیونکر کہلاویں۔ ماسوا اس کے ایسا خیال کرنے میں خدا تعالیٰ پر بھی اعتراض لازم آتا ہے کہ اس کی امانت جو وہ دینی چاہتا تھا وہ کوئی خیر اور صلاحیت اور برکت کی چیز نہیں تھی بلکہ شر اور فساد کی چیز تھی کہ شریر اور ظالم نے اس کو قبول کیا اور نیکوں نے اس کو قبول نہ کیا مگر کیا خدا تعالی کی نسبت یہ بدظنی کرنا جائز ہے کہ جو چیز اس کے چشمہ سے نکلے اور جس کا نام وہ اپنی امانت رکھے جو پھر اس کی طرف رڈ ہونے کے لائق ہے وہ در حقیقت نعوذ باللہ خراب اور پلید چیز ہو جس کو بجز ایسے ظلوم کے جو در حقیقت سرکش اور نافرمان اور نعمت عدل سے بکنی بے نصیب ہے کوئی دوسرا قبول نہ کر سکے۔ افسوس کہ ایسے مکر وہ خیالوں والے کچھ بھی خدا تعالیٰ اور اگر کوئی متوجہ ہوتا یا اب بھی ہو تو وہ زندہ خدا جس کی قدرتیں ہمیشہ عقلمندوں کو حیران کرتی رہی ہیں وہ قادر قیوم جو قدیم سے اس جہان کے حکیموں کو شرمندہ اور ذلیل کرتا رہا ہے بلا شبہ آسمانی چمک سے اس پر حجت قائم کرے گا دنیا میں بڑی خرابی جو افعال شنیعہ کا موجب ہورہی ہے اور آخرت کی طرف سر اٹھانے نہیں دیتی در اصل یہی ہے کہ اکثر لوگوں کو جیسا کہ چاہئے خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں۔ بعض تو اس زمانہ میں کھلی کھلی ہستی باری تعالیٰ کو ہفت اقلیم کے نام سے موسوم کردیں لیکن ناظرین اس دھو کہ میں نہ پڑیں کہ جو کچھ ہفت اقلیم کی ان کی رو ہوچکی سلام علماء نے کی تقسیم ان یونانی علوم کی رو سے ہو چکی ہے جس کو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حکماء اسلام نے یونانی کتب سے لیا تھا وہ بکھی صحیح اور کامل ہے کیونکہ اس جگہ تقسیم سے مراد ہماری ایک صحیح تقسیم مراد ہے جس سے کوئی معمورہ باہر نہ رہے اور زمین کی ہر ایک جزو کسی حصہ میں داخل ہو جائے ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ اب تک یہ مسیح اور کامل تقسیم معرض ظہور میں بھی آئی یا نہیں بلکہ صرف یہ غرض ہے کہ جو خیال اکثر انسانوں کا اس طرف رجوع کر گیا ہے کہ زمین کو سات حصہ