آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 161
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۶۱ آئینہ کمالات اسلام جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد (۱۱) مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سودہ نو ر اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں اور امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل برطبق آیت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا ہے اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔ جیسا کہ ہم مضمون حقیقت اسلام میں بیان کر چکے ہیں اور یہ شان اعلیٰ اور امل اور اتم طور پر ہمارے سید ہمارے مولیٰ ہمارے ہادی نبی امی صادق مصدوق محمد مصطفیٰ کہ خدا تعالی جو اپنے تیزہ اور تقدس میں ہر یک برتر سے برتر ہے اپنی تذلیات اور تجلیات میں مظاہر مناسبہ سے کام لیتا ہے اور چونکہ جسم اور جسمانی چیزیں اپنے ذاتی خواص اور اپنی ہستی کی کامل تقیدات سے مقید ہو کر اور بمقابل ہستی اور وجود باری اپنا نام ہست اور موجود رکھا کر اور اپنے ارادوں یا اپنے طبعی افعال سے اختصاص پا کر اور ایک مستقل وجود جامع ہوتیت نفس اور مانع ہوتیت غیر بن کر ذات علت العلل اور فیاض مطلق سے دور جا پڑے ہیں اور ان کے وجود کے گردا گرد اپنی ہستی اور انانیت کا اور مخلوقیت کا ایک بہت ہی موٹا حجاب ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں رہیں کہ ذات احدیت کے وہ فیضان براہ راست ان پر نازل ہو سکیں جو صرف اس صورت میں نازل ہو سکتے ہیں کہ جب حجب مذکورہ بالا درمیان نہ ہوں جو اس کے علم میں ایک علمی وجود رکھتا ہے فقط یہ کہتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے ۔ اس وہم کا جواب یہ ہے کہ قدرت اور طاقت کا مفہوم اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ النساء: ۵۹