رسالہ درود شریف — Page 131
رساله درود شریف ۲۳۲۰ نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے۔اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ نبوت کاملہ نامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہتک نہیں۔بلکہ اس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے"۔جس کے یہ معنے ہیں کہ پہلے انبیاء ان معنوں میں کامل اور تام نبی نہیں تھے جن معنوں میں آپ کامل اور نام نبی ہیں۔جس کی وجہ سے ان نبوتوں کے دور میں کسی شخص کا امتی نہ کہلانا بلکہ صرف نبی کہلانا اس وقت کے انبیاء کی ہتک کا موجب نہیں تھا لیکن آپ کی نبوت چونکہ نامہ اور کاملہ ہے اس لئے اس کی موجودگی میں کوئی شخص آپ کا امتی کہلانے کے بغیر نبی نہیں کہلا سکتا۔غرض اس درود میں عَبدِكَ وَرَسُولِک کے الفاظ اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہر لحاظ سے اکمل فرد اور جامع کمالات انسانیت و نبوت ورسالت ہیں۔عَنْ أَبِي حُمَيْدِ السَّاعِدِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ قَالُوا۔يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلّى عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ANGELAGE و سلم قولوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَازْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَازْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مجيد (صحیح بخاری) ۳۳ رساله درود شریف حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) بعض صحابہ نے آنحضرت مین الم کی خدمت میں عرض کیا۔یا رسول اللہ ہم آپ پر درود کس طرح پر بھیجا کریں۔آپ نے فرمایا یوں کہا کرو:۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ ازْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ نوٹ۔دھر منشور میں یہ درود شریف ترندی کے سوا تمام اصحاب صحاح نیز امام مالک۔امام احمد عبد بن حمید اور ابن مردویہ کے حوالہ سے منقول ہے مگر اس میں كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ کی بجاۓ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ہے۔اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس درود شریف میں دونوں جگہ وازواجہ کی بجائے وَ عَلَى أَزْوَاجِهِ ہے۔راس کی ایک روایت میں یہ درود شریف اس طرح پر آتا ہے:۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ وَبَارِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اور سنن ابن ماجہ میں اس کے دونوں حصوں میں عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ کی بجائے عَلَى إِبْرَاهِيمَ ہے۔اور إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ صرف دوسرے حصہ میں ہے۔اور اس سے پہلے فِی الْعَالَمِین بھی ہے۔اور سنن ابی داؤد میں بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ الفاظ ہیں :۔