رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 130 of 169

رسالہ درود شریف — Page 130

رساله درود شریف ۲۴۰ جلاء الافہام میں بحوالہ بیہقی صرف یہ الفاظ منقول ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ النَّبِيِّ الْأُمِّي - اس حدیث میں السی کے لفظ سے آيت يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِی کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔اور الا می کے معنے یہ بھی ہیں کہ جو اتم القری میں بھیجا جانیوالا نبی ہے اور جس کی بعثت تمام اقطار عالم کی طرف اور تمام آبادیوں کے باشندوں کی طرف ہوئی ہے اور جس کی تربیت کا تمام عالم محتاج ہے۔واللہ اعلم بالصواب (۵) عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا التَّسْلِيمُ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ قُولُوا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے (ایک دفعہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔کہ یا رسول اللہ ( حضور پر سلام بھیجنے کا طریق تو یہ ) تشہد میں مذکور ہی ہے درود حضور پر کس طرح بھیجا جائے۔فرمایا یوں کہا کرو:- اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ (صحيح بخاری) نوٹ:۔صحیح بخاری میں اس حدیث کی ایک روایت میں کما بارکت کے بعد عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ کی بجائے عَلى إِبْرَاهِيمَ ہے اور ایک میں كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ اور كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَ الِ إبراهيم ہے۔اور سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں اس درود کے دونوں حصوں میں عَلیٰ اِبْرَاهِيمَ ہے۔اور ایک اور روایت میں جو جلاء الافہام میں بحوالہ صحیح بخاری و سنن نسائی و سنن ابن ماجہ مذکور ہے اس درود میں ا موم - رساله درود شریف پہلی بار عَلى إِبْرَاهِيمَ اور دوسری بار عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ - نوٹ ۲۔عربی زبان میں اضافت کے دو طریق ہیں ایک بواسطہ حرف جر ظاہر جیسے بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (بقرہ : ۳۷ ) یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔اور دوسرا بلا ذ کر حرف جر۔جیسے کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پہلی صورت میں مضاف نکرہ کا نکرہ ہی رہتا ہے اور دوسری صورت میں معرفہ بن جاتا ہے۔اور گو وہ نام کئی افراد پر بولا جا سکتا ہو۔مگریہ اضافت اس فرد کو باقی افراد سے اس وصف میں ممتاز کر دیتی ہے جیسا کہ آیت لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللهِ (سورہ جن) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا نام عبد اللہ رکھ کر بتایا گیا ہے کہ آپ عبودیت کے لحاظ سے بھی تمام مخلوق سے بڑھ کر اور بالاتر ہیں۔جیسا کہ آپ نبوت کے لحاظ سے تمام انبیاء کے سردار ہیں۔پس اس درود شریف میں عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ کے معنی یہ ہیں کہ آپ بلحاظ عبودیت میں بھی تمام انبیاء سے بڑھ کر ہیں۔اور بلحاظ رسالت بھی۔اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا " ( اتمام الحجہ صفحہ ۲۸) معنے نبوت کے اور علت غائی رسالت اور پیغمبری کی انہیں کی ذات بابرکات میں متحقق ہو رہی ہے" (براہین احمدیہ حصہ دوم صفحه ۱۲۵) اور رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں:۔نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں۔بلکہ سب