رسومات کے متعلق تعلیم — Page 51
51 بسم اللہ کی رسم :۔بچوں کے سلسلہ میں ایک رسم اور کی جاتی ہے اور وہ ہے بسم اللہ کی تقریب۔ہر مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کی طرف توجہ دے۔درحقیقت تو جس دن بچہ پیدا ہوتا ہے اذان دینے سے ہی اس کی تربیت شروع ہو جاتی ہے تاہم جب پڑھنے کے لائق ہو تو اس کی تعلیم کا انتظام کیا جائے سب سے مقدم یہ ہے کہ پہلے قرآن مجید پڑھایا جائے بعض لوگ بچے خواہ بعد میں پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن چار یا ساڑھے چار سال کی عمر میں باقاعدہ بچہ کی بسم اللہ کی تقریب منعقد کرتے ہیں اور اسراف سے کام لیتے ہیں۔ایک شخص نے بذریعہ تحریر حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ ہمارے ہاں رسم ہے کہ جب بچہ کو بسم اللہ کرائی جائے تو بچہ کو تعلیم دینے والے مولوی کو ایک عدد سختی چاندی یا سونے کی اور قلم و دوات چاندی یا سونے کی دی جاتی ہے اگر چہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر چاہتا ہوں کہ یہ اشیاء اپنے بچہ کی بسم اللہ پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے جواب میں تحریر فرمایا :- و سختی اور قلم و دوات سونے یا چاندی کی دینا یہ سب بدعتیں ہیں ان سے پر ہیز کرنا چاہئے اور باوجود غربت کے اور کم جائیداد ہونے کے اس قد را سراف اختیار کرنا سخت گناہ ہے۔ملفوظات جلد پنجم صفحہ 265 ﴾ ایک اور رسم جو انگریزوں کی تقلید میں اب ہمارے ملک میں