رسومات کے متعلق تعلیم — Page 50
50 اور کچھ نہیں ہوتا۔پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام دائمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا ؟ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی؟ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں نا جائز ہے جو جنازہ میں شامل نہ ہوسکیں وہ اپنے طور سے دعا 66 کریں یا جنازہ غائب پڑھ دیں۔“ ملفوظات جلد پنجم صفحہ 214,213 ﴾ موت ہر انسان کے ساتھ لگی ہوتی ہے اس مرحلہ پر بھی ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ وہی نمونہ دکھا ئیں جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام دکھاتے رہے اور جو اس زمانہ میں حضرت اقدس اور آپ کے خلفاء نے دکھایا کوئی فعل ایسا نہ ہو جو آنحضرت ﷺ کی سنت اور قرآن مجید کے احکام کے خلاف ہو اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے۔بچہ کی پیدائش کے ساتھ وابستہ رسوم :۔بچہ کی پیدائش پر شریعت کا تو یہ حکم ہے کہ بچہ کے کان میں اذان دو۔ساتویں دن عقیقہ کرواؤ۔بال کٹواؤ۔لڑکا ہے تو ختنہ کرواؤ اور بکرا ذبح کر و گوشت خود کھاؤ دوستوں کو کھلا ؤ اور غرباء میں تقسیم کرو تا کہ وہ بھی تمہاری خوشی میں شامل ہوں لیکن اس کے برعکس ابھی تک غیر احمدیوں کی طرح بعض احمدی گھرانوں میں بھی ختنوں کے موقعہ پر باقاعدہ تقریب کی جاتی ہے دعوت ہوتی ہے عزیز اور اقرباء ا کٹھے ہوتے ہیں اور اسراف ہوتا ہے حالانکہ یہ صریح بدعت ہے اس کا جواز اسلامی تاریخ اور سنت سے کہیں نہیں ملتا۔