رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 44 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 44

44 یہ ایسی باتیں ہیں کہ انسان خودان میں فتویٰ لے سکتا ہے جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔وہ منع ہے اور پھر جو اسراف کرتا ہے وہ سخت گناہ کرتا ہے۔اگر ریا کاری کرتا ہے تو گناہ ہے غرض کوئی ایسا امر جس میں اسراف ریا، فسق، ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو ان سے صاف ہو وہ منع نہیں گناہ نہیں کیونکہ اصل اشیاء کی حلت ہے۔66 وفات سے متعلق رسوم :۔: ملفوظات جلد دوم صفحه 311 تیسری قسم کی رسومات کا تعلق انسان کی وفات کے ساتھ ہے۔غیر احمدیوں میں تو قل ، چہلم، دسواں ، چالیسواں نہ جانے کیا کیا ہوتا ہے الحمد للہ کہ احمدیوں میں یہ چیزیں نہیں پائی جاتیں۔لیکن بعض بعض جگہ سے مستورات کے متعلق ایسا کرنے کی شکایات ملتی رہتی ہیں۔پس ایسی محفلوں میں شمولیت اور دوسروں کے ساتھ مل کر ایسی رسومات کرنا جو توحید کے سراسر خلاف ہیں گناہ ہے ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت اقدس فرماتے ہیں: " قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْنِكُمُ اللهُ - (آل عمران: 32) اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے آنحضرت ﷺ کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں۔کوئی مر جاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں۔حالانکہ چاہئے کہ مردہ کے حق میں دعا کریں رسومات کی بجا آوری