رسومات کے متعلق تعلیم

by Other Authors

Page 45 of 61

رسومات کے متعلق تعلیم — Page 45

45 میں آنحضرت ﷺ کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت ﷺ کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا۔اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 316 ﴾ پھر تفصیلی طور پر حضرت اقدس نے ذیل کی عبارت میں ان رسوم کی تشریح فرمائی کہ: (1) ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیا پا کرنا اور چیچنیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا۔یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لیں کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ صرف إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (سورة البقره: 157) کہیں یعنی ہم خدا تعالیٰ کا مال اور ملک ہیں۔اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ کرے وہ شیطان سے ہے۔(2) برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیا پا کرنا اور با ہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چلانا رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض