رسومات کے متعلق تعلیم — Page 26
26 داخل کر لئے اور چند کا فیوں کو حفظ کر لینا کافی سمجھا گیا۔بلہے شاہ کی کافیوں پر وجد میں آجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کا جہاں وعظ ہو رہا ہو وہاں بہت ہی کم لوگ جمع ہوتے ہیں لیکن جہاں اس قسم کے مجمع ہوں وہاں ایک گروہ کثیر جمع ہو جاتا ہے۔نیکیوں کی طرف سے یہ کم رغبتی اور نفسانی اور شہوانی امور کی طرف توجہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ لذت روح اور لذت نفس میں ان لوگوں نے کوئی فرق نہیں سمجھا ہے۔“ ملفوظات جلد دوم صفحہ 63 نیازوں کے متعلق آپ نے فرمایا یہ سب بدعتیں ہیں اور حرام ہیں ان کا کوئی ثبوت قرآن مجید، احادیث اور سلف صالحین کے طریق سے ثابت نہیں۔آپ مزید فرماتے ہیں:۔” ہمارے گھروں میں شریعت کی پابندی کی بہت سستی کی جاتی ہے۔بعض عورتیں زکوۃ دینے کے لائق ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے مگر وہ زکوۃ نہیں دیتیں۔بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں بہت کو تا ہی کرتی ہیں۔بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجالاتی ہیں جیسے چیچک کی پوجا بعض فرضی دیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط رکھ دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں کوئی مرد نہ کھاوے یا حقہ نوش نہ کھاوے۔بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔ہم صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ان لوگوں کو نصیحت کرتے