رسومات کے متعلق تعلیم — Page 27
27 ہیں کہ آؤ خدا تعالیٰ سے ڈروور نہ مرنے کے بعد ذلت اور رسوائی سے سخت عذاب میں پڑو گے اور اس غضب الہی میں مبتلا ہو جاؤ گے جس کی انتہا نہیں “ ملفوظات جلد پنجم ص: 49 حضور نے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم پا کر بیعت لینی شروع کی تو شرائط بیعت میں سے ایک شرط یہ بھی قرار دی۔( شرط ششم ): یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائیگا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔“ ہر احمدی مرد اور عورت جس نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس کو اس شرط کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے اور اپنی روز مرہ کی زندگی کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ بیعت کی اس شرط کے مطابق وہ اتباع رسم سے باز رہتا ہے یا نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور آنحضرت ﷺ کی کامل فرمانبرداری کے ساتھ حضرت موعود آخر الزمان کے احکام کی فرمانبرداری بھی ہم پر صلى الله لازم ہے۔جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں:۔اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حکم عدل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کا فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہوگا لیکن اگر تم نے سچے دل سے تسلیم کر لیا