راہ ھدیٰ — Page 58
۵۸ بروحه " ( سيرة ابن مشام جلد اول ذكر الاسراء والمعراج زیر عنوان حديث عائشته عن مسراه صلی اللہ علیہ و سلم صفحہ ۳۹۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ اسراء کے دوران رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم زمین سے غائب نہیں ہوا۔لیکن اللہ تعالی نے آپ کی روح کو سیر کرائی تھی۔ان معاویه ابن ابی سفیان كان اذا سئل عن مسرى رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال كانت روباء من الله صادقة " ( سيرة ابن هشام جلد اول ذکر الاسراء و المعراج زیر عنوان حدیث معادی ته عن مسراه صلی اللہ علیه و سلم صفحه ۴۰۰) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جب بھی اسراء کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو آپ یہی جواب دیتے تھے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک کچی خواب تھی۔سيرة ابن عشام کے مصنف لکھتے ہیں۔فلم بنکر ذلك من قولهما لقول الحسن ان هذه الاية نزلت في ذلك قول الله تبارک تعالی" و ما جعلنا الرویا التي اریناک الا فتنة للناس - (سيرة ابن هشام جلد اول ذكر الاسراء و المعراج زیر عنوان جوازان يكون الاسراء رويا - صفحه ۴۰۰) ترجمہ : حضرت عائشہ اور حضرت معاویہ کا اسراء روحانی کا عقیدہ جھٹلایا نہیں جا سکتا۔کیونکہ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیت اسراء کے بارے میں نازل ہوئی ہے وما جعلنا الرويا۔۔۔۔۔۔۔۔الخ ابن اسحاق ۱۵۰ ھ میں فوت ہوئے اور ابن مشام کی وفات ۲۱۸ ھ میں ہوئی۔سیرت کے اعتبار سے یہ دونوں ہی قدیم ترین ہیں۔تفسیر ابن جریر میں بھی لکھا ہے کہ حضرت معاویہ رہ ، حضرت عائشہ اور حضرت حسن بصری اسراء روحانی کے قائل تھے۔( تفسیر ابن جریر جلد نمبر ۸ سورۃ بنی اسرائیل زیر آیت سبحان الذی اسرئی بعہد، صفحه ۱۳)