راہ ھدیٰ — Page 57
روحانی معراج کی بجائے جسمانی معراج کی قائل ہے اور اس سے بھی انکار نہیں کہ صحابہ کی کثیر تعداد بھی رفع جسمانی کی قائل دکھائی دیتی ہے۔یہاں بھی ایک اجماع کا سا منظر پیدا ہو جاتا ہے لیکن در حقیقت یہ اجماع محض دور سے دکھائی دینے والا اجماع ہے۔اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس اجماع کے خلاف حضرت عائشہ صدیقہ کی بخاری شریف میں یہ قطعی گواہی ملتی ہے کہ اسراء کے دوران رسول خدا کا جسم زمین سے غائب نہیں ہوا لیکن اللہ تعالی نے آپ کی روح کا اسراء کیا تھا۔اور آنحضرت بیدار ہوئے تو آپ مسجد الحرام میں ہی تھے۔پس دو باتوں میں سے ایک لازماً ماننی پڑے گی۔یا حضرت عائشہ صدیقہ کی قطعی گواہی سے جسے علماء اجماع سمجھ رہے ہیں وہ اجماع نہیں رہا تھا کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنما کی اس شہادت نے اس اجماع کو توڑ دیا یا پھر یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنها اجماع کے خلاف تھیں۔اس لئے آج کل کے علماء کو نعوذ بااللہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے خلاف بھی منکر اجماع والے فتوے دینے پڑیں گے۔پس عافیت اسی میں ہے کہ اس مسئلہ کو اجماع کے مسئلہ سے قطع نظر قرآن و سنت اور عقل کی کسوٹی پر مزید پر کھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنما کا مسلک درست تھا جن سے آدھا دین امت نے سیکھا ہے یا دیگر صحابہ کا۔پس اگر معراج جسمانی کے انکار اور معراج کے کشفی ہونے کا اقرار کرنے کی بناء پر حضرت مرزا صاحب اور ان کی جماعت پر خلاف اجماع امت اور " صریح کفر کا فتویٰ لگانا درست ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں لدھیانوی صاحب کیا ارشاد فرمائیں گے۔معزز قارئین! اب ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ واقعی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا معراج کو کشفی واقعہ تسلیم کرتی تھیں۔نیز حضرت معاویہ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ بھی حضرت عائشہ کے ہم خیال ہیں :- ا۔سیرۃ ابن ہشام میں لکھا ہے :- " قال ابن اسحاق و حدثنی بعض آل ابی بکر ان عائشتہ زوج النبی صلی اللہ علیہ و سلم كانت تقول ما فقد جسد رسول اللہ صلی الله عليه وسلم ولكن الله اسرى