راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 155 of 198

راہ ھدیٰ — Page 155

جاتے ہیں۔۱۵۵ اعتراض نمبر 4۔انت منی بمنزلة روحي ( تذکره صفحه ۷۴۱ ) تو بمنزلہ میری روح کے ہے۔مولوی صاحب کا اس پر اعتراض کرنا حیرت انگیز ہے جب یہ خود عیسی علیہ السلام کو روح اللہ قرار دیتے ہیں یہی نہیں بلکہ جب قرآن میں یہ لکھا دیکھتے ہیں کہ آدم میں جب خدا نے اپنی روح پھونکی تو اس وقت انہیں تعجب ہوتا ہے نہ اعتراض پیدا ہوتا ہے اور مزید تعجب یہ ہے کہ ان معترض صاحب نے قرآن کریم کی اس آیت کا مطالعہ نہیں فرمایا کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح قل الروح من امد کر تی (بنی اسرائیل آیت نمبر ۸۶) پس در حقیقت امرالہی کا نام ہی روح ہے ورنہ نعوذ باللہ خدا کا کوئی جسم نہیں کہ جس کی الگ روح ہو پس جب خدا کی روح کی بات کی جاتی ہے تو مراد اس کا امرہی ہے پس امر اللہ سے آدم کو زندگی ملی اور امر اللہ سے ہی مسیح میں جان پڑی اور ہر زمانہ کا مامور خدا کے امر سے بنتا ہے اور وہ اس سے اپنے امر ہی کی طرح پیار کرتا ہے۔پس اس کو سمجھتے یہ تاویلوں کی بحث میں کھلم کھلا آیتوں کی نصوص صریحہ کی رو سے روح اور امر کا مضمون سمجھایا ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی حملہ کی خو سے باز نہیں آتا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔اعتراض نمبرے - انت منی بمنزلة سمعي ( تذکره ۷۴۷ ) تو بمنزلہ میرے کان کے ہے مولوی صاحب غالبا اس الہام پر تمسخر کرنا چاہتے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ کے کان ہیں اور مرزا صاحب خود وہ کان ہیں۔در حقیقت مولوی صاحب سے نپٹنا ایک بہت بڑی سردردی ہے۔کیونکہ ان کو کچھ بھی علم نہیں نہ قرآن نہ دین نہ عرفان - پڑھا تو سب کچھ ہوا ہے لیکن سمجھا خاک بھی نہیں۔حضرت مرزا صاحب کا یہ الہام یا اس قسم کے دوسرے الہام جن میں خدا کے اعضاء یا بدن کا معنیٰ دکھائی دیتا ہے ان کی کسی تشریح اور تاویل کی جماعت کو ضرورت نہیں۔کیونکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسائل کو حل فرما چکے ہیں اور اس مضمون پر آپ کی بات ہی حرف آخر