راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 156 of 198

راہ ھدیٰ — Page 156

۱۵۶ ہے اگر یہ سننے کے بعد بھی مولوی صاحب زبان کھولنے کی جرات کریں تو ایسا کرنا یقیناً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید گستاخی کے مترادف ہو گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان سے اس حدیث قدسی کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :- میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ) اور جب وہ میرا پیارا بن جاتا ہے ) تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کی ٹانگیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔بخاری کتاب الرقاق باب التواضع ) اعتراض نمبر ۸ - انت منی بمنزلة عرضي ( تذكرة صفحه ۵۱۳) تو بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔جب بھی خدا کا کوئی بندہ آسمان سے آتا ہے ایک نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا جاتا ہے یہ بحث فصل ثالث کے عقیدہ نمبر ۱۸ میں گذر چکی ہے یہ الہام بھی اسی نوعیت کا ہے۔حضرت بایزید بسطامی کے متعلق لکھا ہے کہ ” ان سے کسی نے پوچھا کہ عرش کیا ہے ؟ فرمایا میں ہوں پوچھا کرسی کیا ہے؟ فرمایا میں ہوں پوچھا لوح کیا ہے فرمایا میں ہوں پوچھا کہتے ہیں ابراہیم موسیٰ اور محمد صلعم اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں فرمایا میں ہوں" ( تذکرۃ الاولیاء اردو باب نمبر ۱۴ صفحه ۱۲۸ شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز) عرش الہی کوئی مادی مقام نہیں جیسا کہ مولوی صاحب کے دماغ میں ہے جو جو میں کسی جگہ لٹکا پڑا ہے۔نہ ہی کرسی سے مراد ویسی کرسی ہے جس پر انسان بیٹھتے ہیں۔یہ سب جہالت کی باتیں ہیں جو عرفان سے عاری لوگ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔خدا تعالی کی شان کے مطابق عرش اور اس کے مختلف معانی ہوتے ہیں جن میں سے ایک معنی عبادت گزار بندے کا قلب ہے جس پر خدا تعالی تجلی فرماتا ہے اور قرار پکڑتا ہے یعنی ہمیشہ کیلئے اس قلب پر قبضہ فرما لیتا ہے چنانچہ مرزا صاحب نے معراج کے مضمون پر عارفانہ کلام میں یہ حقیقت بیان فرمائی کہ وہ بلند ترین مقام جس پر خدا جلوہ گر ہوا اور جسے عرش کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہ خود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلیٰ اور ارفع قلب ہی تھا۔