راہ ھدیٰ — Page 154
100 ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ یہ الہام ہوا انت منی و انا منک اعتراض نمبر ۴ انت مني بمنزلة بروزى ( تذکرۃ صفحہ ۵۹۶) " تو بمنزلہ میرے بروز کے ہے" اس سے پہلے بکثرت اس مسئلہ پر بحث گذر چکی ہے۔اعتراض نمبر ۵ انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی ( تذکره صفحه (۳۸) یعنی تو بمنزلہ میری توحید و تفرید کے ہے " اس الہام کا جو ترجمہ مرزا صاحب نے فرمایا ہے وہی درست با محاورہ ترجمہ ہے اور ذرا پہلے ہم یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ عربی زبان میں جب یہ کہنا ہو کہ تو میرا ہے میں تیرا ہوں تو عربی میں دو الفاظ کے درمیان " من " داخل کرنا پڑتا ہے پس دراصل یہاں اسی طرح کا ایک پیار کا اظہار ہے کہ تو مجھے اسی طرح عزیز ہے جس طرح مجھے توحید عزیز ہے اور جس طرح اپنی یکتائی عزیز ہے۔یہی ترجمہ حضرت مرزا صاحب نے اس الہام کا کیا ہے کہ ” تو مجھ سے ایسا قرب رکھتا ہے اور ایسا ہی میں تجھے چاہتا ہوں جیسا کہ اپنی توحید اور تفرید کو " (اربعین نمبر ۳ صفحه ۲۵ حاشیه ) معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کی نہ تو قرآن پر نظر ہے نہ حدیث پر اور نہ تاریخ اسلام سے انہیں واقفیت ہے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جنگ بدر میں یہ دعا کی کہ اے خدا تو نے اگر آج اس مٹھی بھر ( میرے صحابہ کی ) جماعت کو ہلاک ہونے دیا تو پھر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔آپ نے در حقیقت اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ خدا کے بعض بندے توحید کے علمبردار ہو جاتے ہیں اگر وہ اٹھ جائیں تو توحید اٹھ جاتی ہے پس خدا کے تمام بھیجے ہوئے انبیاء اسی طرح خدا کی توحید اور تفرید کے مظہر ہوتے ہیں جیسا کہ زیر نظر الہام میں بیان فرمایا گیا ہے اور چونکہ خدا کو اپنی توحید اور تفرید بہت پیاری ہے اس لئے اپنے ان بندوں سے جو اس کی توحید اور تفرید کیلئے سب کچھ قربان کرنے والے ہوتے ہیں خدا تعالٰی ان کے لئے غیرت دکھاتا ہے اور ان کی حفاظت فرماتا ہے۔دیکھئے کتنا پیارا مضمون قرآن کریم اور فرمودات نبویہ سے ہالبدامت ثابت ہے اور لدھیانوی صاحب ہیں کہ اپنے ہی خیالات کی تاریکیوں میں بیٹھے اعتراضات کا تانا بانا بنتے چلے