راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 153 of 198

راہ ھدیٰ — Page 153

۱۵۳ سلمان ہم میں سے ہے اور اہل بیت ہے لیکن یہ تو محض انسانی تعلقات کی باتیں ہیں۔اب سنئے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا اور بندے کے تعلق میں بعینہ یہی فقرہ بیان فرمایا ہے۔الْعَبْدُ مِنَ اللهِ وَهُوَ مِنه (الجامع الصغير للسيوطى باب العين) کہ خدا کا کامل اور سچا غلام اللہ میں سے ہوتا ہے اور خدا اس میں سے ہوتا ہے۔اب دیکھئے ! جناب لدھیانوی صاحب کا حملہ دراصل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے خلاف سخت گستاخی اور بے باکی ہے اگر اس قسم کے جملوں کے معانی مولوی صاحب مشرکانہ فکاہات سمجھتے ہیں تو دیکھئے کہ کس قدر بد بختی کے مقام پر آپہنچے ہیں کہ ایسا ہی فقره ای حدیث نبوی کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے جاری ہونا ثابت ہوتا ہے۔در حقیقت اردو زبان میں انت منی و انا مسنگ کا ترجمہ ایک وقت پیدا کر رہا ہے۔تو مجھے سے اور میں تجھ سے ، اس کا لفظی ترجمہ ہے جو پوری طرح عربی مضمون کو واضح نہیں کرتا۔اگر اس کا بامحاورہ ترجمہ کیا جائے تو اعتراض خود ختم ہو جاتا ہے۔اس کا بامحاورہ ترجمہ یہ ہے۔" تو میرا ہے میں تیرا ہوں" عربی زبان میں اگر یہ کہنا ہو کہ تو میرا ہے تو " انت " کو متکلم کی ضمیر "ی" کی طرف مضاف کیا ہی نہیں جا سکتا۔سوائے اس کے کہ درمیان میں " من " داخل کیا جائے۔اسی طرح کہا " کی ضمیر متکلم کو ضمیر "ک" کی طرف مضاف کرنا ممکن نہیں۔سوائے اس کے کہ درمیان میں " من " داخل کیا جائے۔اس لحاظ سے تو میرا ہے " کے لئے جس طرح آنتی " کہنا بالکل لغو اور غلط ہے اسی طرح ناک" کہنا بھی بالکل لغو اور غلط ہے۔پس جب یہ کہتا ہو کہ " تو میرا ہے میں تیرا ہوں " تو عربی محاورہ میں سوائے انت منی و انا منک کہنے کے اور کوئی چارہ ہی نہیں۔اب ضمناً مولوی صاحب کو یہ جتاتے چلیں کہ اس زمانہ کے غزنوی خاندان کے مشہور صوفی بزرگ حضرت عبداللہ غزنوی کو بمطابق کتاب " سوانح مولوی عبداللہ غزنوی صفحه ۴۲"