راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 142 of 198

راہ ھدیٰ — Page 142

۱۴۲ میں لیا گیا ہے اس میں اقوال مختلف ہیں حضرت علی اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی علیہ السلام ہیں یعنی اللہ تعالٰی نے یہ عہد تمام انبیاء سے صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لیا تھا کہ اگر وہ خود ان کا زمانہ پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور ان کی تائید و نصرت کریں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی یہی ہدایت کر جائیں۔حضرت طاؤس ، حسن بصری اور قتادہ رحمھم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ میثاق انبیاء سے اس لئے لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی تائید و نصرت کریں (تفسیر ابن کثیر) اس دوسرے قول کی تائید اللہ تعالی کے قول وَإِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِنَا فَهُمْ وَمِنكَ وَ مِن نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيْنَا فَا غَلِيظًا (احزاب) سے بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ عہد ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کیلئے لیا گیا تھا ( تفسیر احمدی) در حقیقت مذکورہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں ہے اس لئے دونوں ہی مراد لی جا سکتی ہیں ( تفسیر ابن اکثیر)" تغییر معارف القرآن جلد ۲ صفحہ نمبر ۹۹ ۱۰۰۰ زیر عنوان میثاق سے کیا مراد ہے ؟) مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : "وَإِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِثَاق النبيين الى ان آیات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اللہ تعالی نے تمام انبیاء سے یہ پختہ عہد لیا کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے جو یقیناً پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہو گا تو پہلے نہی کے لئے ضروری ہے کہ پچھلے نبی کی سچائی اور نبوت پر ایمان خود بھی لائے اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کرے " ( معارف القرآن جلد ۲ صفحہ ۱۰۰) قرآن کریم کی ان دونوں آیات سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ عہد لیا گیا تھا کہ آپ کے بعد جو نبی آئے آپ بھی اس پر ایمان لائیں اور اس کی امداد کریں۔اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مسیح نبی اللہ کی آمد کی بشارت دی ہے۔اس آیت میں ہر آئندہ آنے والے پر ایمان لانے کا عہد ہے۔مولوی کون ہوتا ہے کہ