راہ ھدیٰ — Page 143
۱۳ راستے میں کھڑا ہو جائے بعض اوقات بعد میں آنے والا درجہ میں پہلے سے کم تر ہوتا ہے اگرچہ رسالت میں برابر ہو۔ورنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی کو آپ سے درجے میں بڑھ کر ماننا پڑے گا۔پس اگر یہ ابراہیم علیہ السلام سے بھی عہد لیا گیا تو کیا وہ بعد میں آنے والے حضرت اسحق، حضرت اسماعیل ، حضرت یعقوب حضرت یوسف علیہم السلام پر ایمان لائے تھے کہ نہیں ؟ اگر لائے تھے تو کیا یہ عقیدہ رکھنا ان کی گستاخی ہے ؟ اسی طرح کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی نبیوں میں شامل تھے یا نہیں اور ان سے بھی یہ عہد لیا گیا اور کیا وہ اپنے بعد آنے والے نبیوں پر ایمان لائے یا عہد شکنی کے مرتکب ہوئے ؟ یقیناً ایمان لائے تو اس صورت میں کیا حضرت واور حضرت سلیمان، حضرت یحی حضرت ذکریا اور حضرت عیسی پر ان کا ایمان لانا ان کی شان میں گستاخی ہے اور ہتک عزت قرار پاتی ہے ؟ عجیب جاہل مولویوں سے واسطہ پڑا ہے کہ واضح کھلے کھلے قرآنی علوم کو دیکھتے ہیں اور پھر بھی ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔گستاخی کے مقدمے تو ان لوگوں پر چلنے چاہئیں۔دیکھئے ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ - رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلَّ أَمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ (بقره آخری رکوع ) کیا اس " کا " میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ایمان لانے والے شامل نہیں۔کیا اس آیت میں یہ اعلان نہیں فرمایا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دوسرے مومن کی طرح خدا کے تمام انبیاء پر ایمان لے آئے اور تمام کتابوں پر ایمان لے آئے یہ ایمان تو تصدیق کے معنی رکھتا ہے ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جس پر ایمان لائے وہ اعلیٰ اور افضل ہو جاتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو سب فرشتوں سے بھی افضل تھے حتی کہ جبریل کو بھی معراج میں پیچھے چھوڑ دیا۔کیا آپ فرشتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے اگر ایمان لاتے تھے تو ان لدھیانوی صاحب کا کیا فتویٰ ہے بول کر تو دیکھیں۔عقیدہ نمبر۱۷ اس عنوان کے تحت لدھیانوی لکھتے ہیں۔" قرآن کریم کی کسی آیت یا آنحضرت صلی اللہ