راہ ھدیٰ — Page 141
۱۴۱ میثاق کا ہی لفظ استعمال ہوا ہے ان دو مقامات کے علاوہ قرآن کریم میں کسی جگہ بھی نبیوں کے لئے میثاق کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔لہذا یہ دونوں آیات ایک دوسری کی تشریح کر رہی ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ سورۃ احزاب کی آیت میں نبیوں کے میثاق کی تفصیل نہیں بیان کی گئی اور سورۃ آل عمران کی آیت میں نبیوں سے جو میثاق لیا گیا اس کی تفصیل بیان کی گئی کہ وہ یہ تھا کہ انبیاء اپنی قوموں کو یہ نصیحت کر جائیں کہ ہمارے بعد جو بھی نبی آئے اس پر ایمان لائیں اور اس کی امداد کریں۔ان دونوں آیات کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سورۃ احزاب کی آیت میں موجود لفظ " منک" کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ عہد لیا گیا ہے کہ آپ کے بعد جو نبی آئے اس پر ایمان لائیں اور اس کی امداد کریں۔اس کی امداد اس طرح ہو گی کہ اپنی امت کو اس پر ایمان لانے اور اس کی تصدیق کرنے کی نصیحت کر جائیں۔اور انہیں اس کی مدد کرنے کی تلقین کریں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو امام مہدی اور مسیح نبی اللہ کے آنے کی بشارت دی اور اپنی امت کو اس پر ایمان لانے اور اس کی بیعت کرنے کی تلقین کی۔جیسا کہ فصل دوم کے عقیدہ نمبر ۲ کے جواب میں مفصل ذکر ہو چکا ہے۔قارئین کرام وہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔شیخ الهند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی سورة آل عمران کی آیت کی تشریح میں فائدہ نمبر ۳ کے زیر عنوان لکھتے ہیں :- حق تعالٰی نے خود پیغمبروں سے بھی یہ پختہ عہد لے چھوڑا ہے کہ جب تم میں سے کسی نہی کے بعد دوسرا نبی آئے ( جو یقیناً پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی اجمالاً یا تفصیلاً تصدیق کرتا ہوا آئے گا ) تو ضروری ہے کہ پہلا نبی پچھلے کی صداقت پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے۔اگر اس کا زمانہ پائے تو بذاتِ خود بھی اور نہ پائے تو اپنی امت کو پوری طرح ہدایت و تاکید کر جائے کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لا کہ اس کی اعانت و نصرت کرنا۔کہ یہ وصیت کر جانا بھی اس کی مدد کرنے میں داخل ہے۔" اے ) ترجمه القرآن از شیخ الهند مولانا محمود الحسن صاحب دیو بندی صفحه ۷۸) مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی اس آیت کے نیچے لکھتے ہیں :- "میثاق کیا ہے ؟ اس کی تصریح تو قرآن نے کر دی ہے لیکن یہ میثاق کس چیز کے بارہ اب صورة شراء تک شیخ العن صاحب کے نوٹ میں بقیہ سب لوٹ مشرقی صاحب نے کھتے ہیں۔