راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 136 of 198

راہ ھدیٰ — Page 136

ان کی عبارت کا وبال خود ان پر ہی پڑے گا۔نہ کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ پر۔حضرت مرزا بشیر الدین رضی اللہ عنہ تو صرف یہ بات بیان فرما رہے ہیں جو آپ نے اپنے ایک شعر میں بھی بیان فرمائی ہے کہ شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جدا سمجھے آپ نے عام دنیا کا دستور بیان فرمایا ہے کہ کبھی کبھی یوں بھی ہوا ہے کہ شاگرد استاد سے بڑھ بھی جاتے ہیں لیکن پھر بھی مرتبے میں آگے نہیں بڑھ جاتے یہ دستور بیان کرتے ہوئے ہرگز آپ نے نہیں لکھا کہ جیسے نعوذ باللہ مرزا صاحب آگے بڑھ گئے۔یہ فاسقانہ خیال لدھیانوی صاحب کا اپنا ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر رہے ہیں اور یہی ان کی بد دیانتی کی دلیل ہے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس بحث کا اس تقریر میں جو منطقی نتیجہ نکالا ہے وہ یہی ہے کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آقا محسن اور مخدوم ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے خادم شاگرد اور غلام ہیں " (الحکم قادیان ۲۸ اپریل ۱۹۴ء صفحه ۴) پس جن عوام الناس کی راہنمائی ایسے علماء کر رہے ہوں جو دیانتداری اور تقویٰ سے خالی ہوں ان کی بے راہ روی کا وبال بھی ان ہی کے سر پڑے گا۔عقیدہ نمبر ۱۵ ہتک استہزاء اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے الفضل سے ایک اقتباس درج کیا ہے جس میں مسیح موعود کے منکرین کے کفر کا بیان ہے۔یہ اعتراض وہی ہے جو لدھیانوی صاحب نے فصل دوم کے عقیدہ نمبر ۲ اور فصل سوم کے عقیدہ نمبر 19 کے تحت کیا ہے۔پھر اسی اعتراض کو نمبر شمار بڑھانے کیلئے فصل چہارم کے عقیدہ نمبر 1 کے تحت اور اب عقیدہ نمبر ۵ کے تحت دہرا دیا ہے۔فصل دوم میں ہم اس اعتراض کے جواب میں مفصل گفتگو کر چکے ہیں۔قارئین وہاں ملاحظہ فرمالیں۔اسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔