راہ ھدیٰ — Page 137
۱۳۷ عقیدہ نمبر ۱۶ آنحضرت سے مرزا صاحب پر ایمان لانے کا عہد اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے الفضل کے حوالہ سے ایک نظم اور ایک نشریر مشتمل اقتباس درج کیا ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ از روئے قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیح موعود پر ایمان لانے اور اس کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا ہے۔اور اس کے بعد لدھیانوی صاحب نے جماعت احمدیہ کے غیر مبائع فریق کے اخبار ” پیغام صلح " کا ایک اقتباس درج کیا ہے جس میں ایک غیر مبائع مضمون نگار ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے الفضل کے مندرجہ بالا اقتباس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر یہ بات مان لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسیح موعود پر ایمان لائیں گے تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے۔اور مسیح موعود کا مرتبہ زیادہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ کم ثابت ہوتا ہے۔جس شاعر کے شعروں پر بھی انہوں نے حملہ کیا ہے اس پر بالعموم ہمارا وہی جواب صادق آتا ہے جو پہلے ایک شاعر کے شعروں کے بارہ میں دیا گیا۔لیکن فرق صرف یہ ہے کہ ان کے حملہ میں ایک غیر مبائع لاہوری احمدی بھی مولوی صاحب کا شریک ہو چکا ہے۔قطع نظر اس کے کہ شاعر قرآن کریم سے کیا سمجھا اور کیا بیان کیا ہم قرآن کریم سے ہی اصل متعلقہ آیت قارئین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جس کا واضح اور قطعی ترجمہ مسلمہ غیر احمدی علماء کے ترجمہ کے مطابق حسب ذیل ہے۔وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّيْنَ مِنَاقَهُمْ وَمِنكَ (سورۃ الاحزاب آیت (۸) اے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا تھا اور تجھ سے بھی لیا ہے۔اس آیت کریمہ کو پڑھنے کے بعد کوئی معمولی خوف خدا رکھنے والا مسلمان بھی اس آیت کو بگاڑ کر پیش نہیں کر سکتا۔