راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 9 of 198

راہ ھدیٰ — Page 9

اس کے محل سے الگ کر کے نہایت خیشانہ معنے اس کی طرف منسوب کرے۔تو یہ انتہائی مفسدانہ اور شیطانی فعل کہلائے گا۔پس اگر آریوں ، عیسائیوں ، بہائیوں میں سے کوئی قرآن - کریم پر اس قسم کا بے باکانہ حملہ کرے تو یقیناً اس کی جسارت نہایت مکروہ اور مردود ہو گی۔جماعت احمدیہ بغیر کسی شک کے قطعی طور پر اس بات کی شہادت دیتی ہے۔کہ حضرت مرزا صاحب کی تحریروں میں جہاں جہاں بھی لفظ محمد علی و بروزی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔بعینہ ان معنوں میں ہے۔جن معنوں میں آیات مذکورہ میں اللہ کے لفظ کا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اطلاق ہوا ہے۔جس کے معنی تمام شرفاء اور متقیوں کے نزدیک یہ بنتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامل طور پر اپنے رب میں فنا ہو گئے اور اپنی کوئی مرضی نہ رہی۔آپ کا اٹھنا بیٹھنا۔آپ کی حرکت و سکون کچھ بھی اپنا نہ رہا۔یہ تعلق ایسا کامل ہو گیا تھا۔کہ آپ نے اپنا سب کچھ خدا میں مٹا دیا آپ کا ہر عمل اور ہر ارادہ اس طرح خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہو گیا کہ دیکھنے والے کو آپ کے ہر ارادہ میں خدا کا ارادہ دکھائی دینے لگا اور ہر عمل میں خدا کا عمل۔اسی کامل غلامی کی ایک نہایت ہی حسین تصویر ان آیات میں کھینچی گئی ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم نے آپ کو عبد اللہ کا لقب عطا فرمایا یعنی اللہ کا کامل غلام۔پس جب آقا کا لقب غلام کو عطا ہوتا ہے۔تو نہ ہم مرتبہ بنانے کے لئے نہ دو الگ وجود بنانے کے لئے بلکہ ان معنوں میں کہ غلام نے کلیتہ اپنے آپ کو اپنے آقا میں مٹا دیا۔پس بجز بتانے کے لئے نہ کہ کبر بتانے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے۔- اس مضمون کو ہم اچھی طرح سمجھانے کے بعد اب بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ یوسف لدھیانوی صاحب اور ان کے ہم فکر علماء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے ویسی ہی زیادتی کر رہے ہیں جس طرح دشمنان اسلام قرآن کریم کی مذکورہ آیات سے کرتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کی رسول اللہ سے جو نسبت بیان فرمائی ہے۔وہ ایک دو جگہ تو نہیں ، نظم اور نثر کے سینکڑوں صفحات پر پھیلی ہوئی اتنی واضح اور قطعی ہے۔اور یہ ایک ایسا کھلا کھلا کلام ہے کہ ایک ادنی سی سمجھ رکھنے والا انسان بھی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم مرتبہ وجود کے طور پر پیش کیا ہے۔یا مولوی یوسف لدھیانوی والا دو محمد پیدا ہونے والا نظریہ پیش کیا ہے۔حضرت