راہ ھدیٰ — Page 10
مرزا صاحب کی متعلقہ تحریرات پیش کرنے سے پہلے ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ مولوی لدھیانوی صاحب کا یہ بیان بھی جھوٹا ہے کہ بروز کی اصطلاح اسلام میں استعمال نہیں ہوئی اور یہ نظریہ غیر اسلامی ہے۔ا۔دیکھیں کیا فرماتے ہیں حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ چاچڑاں شریف والے جن کے مرید سرائیکی علاقہ میں کثرت سے موجود ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔" بروز یہ ہے کہ ایک روح دوسرے اکمل روح سے فیضان حاصل کرتی ہے۔جب اس پر تجلیات کا فیضان ہوتا ہے۔تو وہ اس کا مظہر بن جاتی ہے۔اور کہتی ہے کہ میں وہ ہوں" ( مقابیس المجالس المعروف به اشارات فریدی مولفه رکن الدین حصہ دوم صفحه الله مطبوعه مفید عام پریس آگره ۱۳۲۱ ) مولوی محمد یوسف صاحب لدھیانوی کو ہم مودبانہ درخواست کے ذریعہ توجہ دلاتے ہیں کہ کم از کم اپنے پیرو مرشد کی تحریرات کا تو مطالعہ کر لیا کریں۔-۲- لدھیانوی صاحب تو دیوبندی ہونے کے باوجود کل اور بروز کو غیر اسلامی اصطلاح قرار دیتے ہیں۔لیکن ان کے پیرو مرشد مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا قاسم نانوتوی فرماتے ہیں۔" انبیاء میں جو کچھ ہے وہ کل اور عکس محمدی ہے " (تحذیر الناس از مولانا قاسم نانوتوی صفحه ۵۳ مطبوعہ مکتبہ قاسم العلوم کورنگی کراچی) اس عبارت میں حضرت مولانا موصوف تمام انبیاء کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل اور بروز قرار دے رہے ہیں۔حضرت قطب العالم شیخ المشائخ شیخ محمد اکرم صابری الحنفی القدوس کی کتاب اقتباس الانوار میں لکھا ہے " روحانیت کمل کا ہے بر ارباب ریاضت چناں تصرف میفر ماید که فاعل افعال شان میگردد و این مرتبه را صوفیاء بروز میگویند " ( اقتباس الانوار صفحه ۵۲) اب: حضرت شیخ محمد اکرم صابری ابن محمد علی " براسہ " کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق حفی مذہب سے تھا اور مسلک کے لحاظ سے قدری کہلاتے تھے آپ نے اپنی تصنیف " اقتباس الانوار " میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور خلفائے راشدین اور اولیائے کرام کے حالات درج کئے ہیں۔