راہ ھدیٰ — Page 8
زیاد بھی کیا ہے۔کہ آپ کی کیا مراد ہے۔پس یہ بحث بالکل لغو بے حقیقت اور بے معنی ہے کہ بروز کی اصطلاح امت محمدیہ میں رائج ہے کہ نہیں۔لیکن آئین صفحات میں ہم آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ مولوی صاحب کس طرح سراسر جھوٹ سے بہ لیتے ہیں۔جب یہ کہتے ہیں کہ ظل اور بروز کا تصور غیر اسلامی ہے۔سر دست یہ بھول جائیے کہ اسلام میں یہ اصطلاح ہے کہ نہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جب محمد کا لفظ بروزی اور علی طور پر اپنے پر چسپاں کیا۔تو کن معنوں میں استعمال کیا۔ان اصطلاحوں کے تین ہی معنی عقلا ممکن ہیں۔اول یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے آپ کو یہ اصطلاح استعمال کر کے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم مرتبہ ظاہر کیا ( نعوذ باللہ ) اور یہ بتایا کہ میں آپ کے درجہ کے برابر ہوں اگرچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوں۔پس ہم مرتبہ ہونے کی وجہ سے نام محمد دیا گیا ہے۔دوسرا یہ معنی قرار دیا جا سکتا ہے کہ (نعوذ باللہ ) دنیا میں ایک محمد نہیں بلکہ وہ محمد ہیں۔کہ ایک عرب میں پیدا ہوا تھا۔اور ایک ہندوستان قادیان میں۔اس طرح ہم مرتبہ ہونے کا ہی دعوئی نہیں بلکہ کلیہ علیحدہ محمد ہونے کا دعویٰ کر دیا۔تیسرا یہ معنی ہو سکتا ہے کہ ان معنوں میں اسم محمد کا اپنے اوپر اطلاق کیا جن معنوں میں اللہ کے لفظ کا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اطلاق کیا گیا جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا - وَمَارَسَتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلِكِنَّ اللهَ رَلى (انفال آیت نمبر ۱۸) یعنی اے محمد " جب تو نے مٹھی بھر کنکریاں کفار کی طرف پھینکیں تو تو نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکیں اور پھر فرمایا کہ ان الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَا يَمُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح آیت نمبر 1) کہ یہ لوگ جو تیری بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔(وہ ہاتھ جو ان کے ہاتھوں پر تھا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ تھا ) ظاہر ہے کہ ان دونوں مواقع پر خدا تعالی ہرگز یہ بیان نہیں فرماتا کہ نعوذ بااللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے ہم مرتبہ ہیں ، نہ ہی یہ دعوئی فرمایا ہے کہ دو خدا ہیں۔ایک وہ جو مکہ میں ظاہر ہوا اور ایک وہ اللہ جو زمین و آسمان میں ہر جگہ ہے۔اگر کوئی شخص ان آیات کا یہ مطلب نکالے تو یقیناً مفسد اور شیطان ہو گا۔اور کلام اللہ کو