راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 134 of 198

راہ ھدیٰ — Page 134

۱۳۴ دراصل اہل علم کے نزدیک قابل قبول ہوا کرتی ہے اور اگر یہ بات بھی کوئی تسلیم نہیں کرتا تو اکمل صاحب کی طرف گستاخی منسوب کر کے ان پر بے شک لعن طعن کرے لیکن ہرگز ان کی طرف منسوب شده گستاخی کو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرنے کا اسے حق نہیں ہم پھر ایک بار یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر لدھیانوی صاحب کے اخذ کئے ہوئے معانی درست ہیں تو یقیناً یہ شعر لعنت اور ملامت کا سزاوار ہے لیکن احمدیت ہرگز اس لعنت کا نشانہ نہیں بن سکتی۔عقیدہ نمبر ۱۳ مصطفى مرزا اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے کسی احمدی شاعر کی نظم کے مندرجہ ذیل تین اشعار درج کئے ہیں۔صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک کہ جس پر وہ بدر الہٹی بن کے آیا پنے چارہ سازی امت ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰ میرزا بن کے آیا (صفحه ۲۸) یہ اعتراض بھی محض نمبر شماری ہے ظاہر ہے کہ اس قسم کے تمام اعتراضات کے جوابات گذشتہ اوراق میں گذر چکے ہیں لہذا مہربانی فرما کر قارئین ان ابواب کا دوبارہ مطالعہ کریں تو انہیں سمجھ آجائے گی کہ جس طرح گذشتہ اولیاء امام مہدی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حل اور آپ کی بعثت ثانیہ قرار دینے میں ہرگز کسی گستاخی کے مرتکب نہیں ہوئے تھے بلکہ ہمیشہ ہی پیش نظر رہا کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو خادم بھی آپ کی نمائندگی کرے گا وہ آپ ہی کے جلوؤں کو منعکس کرے گا اور آپ کے فیض سے فیض یاب ہو گا اور آپ کے ہی حسن سے حسن یافتہ ہو گا پس یہ معنی صلحائے امت میں پہلے بھی مقبول رہے اور آج بھی مقبول ہیں ایک سطحی عقل رکھنے والے مولوی کو اگر یہ سمجھ نہیں آئے اور اسے گستاخی تصور کرتا ہے تو پھر اپنے حملوں کا آغاز ان بزرگوں سے کرے مثلاً حضرت شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں هذا وجود جدی محمد صلی اللہ علیہ و سلم لا وجود عبدالقادر ! ا یہ میرا وجود عبد القادر کا نہیں ہے۔بلکہ میرے دادا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وجود ہے۔