راہ ھدیٰ — Page 133
شاہد ہے کہ میرے واہمہ نے بھی کبھی اس جاہ و جلال کے نبی حضرت ختمیت مآب کے مقابل پر کسی شخصیت کو تجویز نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔کہ یہ بات میرے خیال تک میں نہ آئی کہ میں یہ شعر ( آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں ) کہہ کر حضرت افضل الترسل صد کے مقابل میں کسی کو لا رہا ہوں۔بلکہ میں نے تو یہ کہا کہ محمد مصطفیٰ کا نزول ہوا۔یعنی بعثت ثانیہ اور یہ تمام احمدیوں کا عقیدہ ہے“ کہ نہ تو تاریخ صحیح ہے نہ دوسرے جسم میں روح کا حلول۔بلکہ نزول سے مراد اس کی روحانیت کا ظہور ہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ للأخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولى ہر آنے والے دن میں تیری شان پہلے سے زیادہ نمایاں اور افزوں ہو گی۔بوجہ درود شریف اور اعمال حسنہ امت محمدیہ جن کا ثواب جیسا کہ عمل کرنے والے کے نام لکھا جاتا ہے۔ویسا ہی محرک و معلم کے نام بھی۔اس لئے کچھ شک نہیں کہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہر وقت بڑھ رہی ہے۔اور بڑھتی رہے گی اور خدا کے وسیع خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں۔پس میں نے صرف یہی کہا کہ سیدنا محمد مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی برکات و فیوض کا نزول پھر ہو رہا ہے۔اور آپ کے اترنے سے یہی مراد ہو سکتی ہے۔اور آپ کی شان پہلے سے بھی بڑھ کر ظاہر ہو رہی ہے۔اسی شعر میں کسی دوسرے وجود کا مطلق ذکر نہیں بلکہ اسی نظم میں آخری شعر یہ ہے غلام احمد مختار ہو کر یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں یعنی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے جو رتبہ مسیح موعود ہونے کا پایا ہے وہ حضرت احمد مجتبی محمد مصطفیٰ کی غلامی کی طفیل اور ان کے اتباع کا نتیجہ ہے۔" الفضل ۱۳ اگست ۱۹۴۴ء ) ظاہر ہے کہ یہ مفہوم قابل اعتراض نہیں۔اگر پھر بھی کوئی کہے کہ یہ مفہوم بعد میں شاعر نے بنا لیا ہے اور دراصل اس کا اصل مفہوم وہی تھا جو بظا ہر دکھائی دیتا ہے اور جس پر لدھیانوی صاحب نے حملہ کیا ہے تو بے شک ایسا سمجھے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ شاعر نے خود جو تشریح پیش کی ہو وہی