راہ ھدیٰ — Page 124
۱۲۴ کر سکتا ہے۔مثلاً ا۔” یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ایسے امور میں جو عملی طور پر سکھلائے نہیں جاتے اور نہ ان کی جزئیات مخفیہ سمجھائی جاتی ہیں انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت امکان سہو د خطا ہے مثلاً اس خواب کی بناء پر جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے جو بعض مومنوں کے لئے موجب ابتلاء کا ہوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور کئی دن تک منزل در منزل طے کر کے اس بلدۂ مبارکہ تک پہنچے مگر کفار نے طواف خانہ کعبہ سے روک دیا اور اس وقت اس رویا کی تعبیر ظہور میں نہ آئی لیکن کچھ شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی امید پر یہ سفر کیا تھا کہ اب کے سفر میں ہی طواف میسر آجائے گا اور بلاشبہ رسول اللہ صلعم کی خواب وحی میں داخل ہے لیکن اس وحی کے اصل معنے سمجھنے میں جو غلطی ہوئی اس پر متنبہ نہیں کیا گیا تھا۔تبھی تو خدا جانے کئی روز تک مصائب سفر اٹھا کر مکہ معظمہ میں پہنچے اگر راہ میں متنبہ کیا جاتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرور مدینہ منورہ میں واپس آ جاتے۔۲۔اسی طرح ابن صیاد کی نسبت صاف طور پر وحی نہیں کھلی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اول اول یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے مگر آخر میں رائے بدل گئی تھی" ازالہ اوہام ۶۸۷ تا ۶۸۹ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۲۴۴۷۱) بشری تقاضوں کے تحت ہونے والی اجتہادی غلطیوں کی چند دوسری مثالیں دینے کے بعد فرماتے ہیں۔بهر حال ان تمام باتوں سے یقینی طور پر یہ اصول قائم ہوتا ہے کہ پیشگوئیوں کی تاویل اور تعبیر میں انبیاء علیہم السلام کبھی غلطی بھی کھاتے ہیں جس قدر الفاظ وحی کے ہوتے ہیں وہ تو بلاشبہ اول درجہ کے بچے ہوتے ہیں مگر نبیوں کی عادت ہوتی ہے کہ کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنی طرف سے ان کی کسی قدر تفصیل کرتے ہیں اور چونکہ وہ انسان ہیں اس لئے تغیر میں کبھی احتمال خطا کا ہوتا ہے۔لیکن امور دینیہ ، ایمانیہ میں اس خطاب کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ ان کی تبلیغ میں من جانب اللہ بڑا اہتمام ہوتا ہے اور وہ نبیوں کو عملی طور پر بھی سکھلائی جاتی ہیں۔چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہشت اور دوزخ بھی دکھایا گیا اور آیات متواترہ محکمہ بینہ سے جنت اور نار کی حقیقت بھی ظاہر کی گئی ہے۔پھر کیونکر ممکن تھا کہ اس کی تفسیر