راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 123 of 198

راہ ھدیٰ — Page 123

۱۳۳ نہیں بتایا کرتا۔صرف یہ خبر دیا کرتا ہے کہ فلاں بات ہو گی اور اس کی تمام جزئیات اور اخبار کی تفصیل نہیں دیا کرتا۔جب وہ پیشگوئی پوری ہو جاتی ہے تو پھر اس کی پوری حقیقت کھلتی ہے۔جب تک پیشگوئی پوری نہ ہو اس کی تفاصیل کے سمجھنے میں غلطی لگ سکتی ہے اور بعض اوقات نبیوں کو بھی غلطی لگ جاتی ہے۔دوسرے یہ معروف بات ہے اور احادیث میں کثرت سے درج ہے کہ دجال کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جستجو میں رہتے تھے کہ دجال کون ہے۔کب ظاہر ہو گا۔وغیرہ وغیرہ چنانچہ دخان والی حدیث پر غور کر کے دیکھیں۔انبیاء کو بعض اوقات دور دور کی خبروں سے مطلع کیا جاتا ہے جن کی پوری کیفیت بدلے ہوئے زمانہ میں ہی واضح ہو سکتی ہے اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کو دجال کیوں سمجھتے پس یہ حدیث قطعی گواہ ہے کہ یہ مضمون نہ صرف یہ کہ غلط نہیں بلکہ احادیث صحیحہ کے عین مطابق ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کمال ادب اور عشق کی رو سے اس بات کو اس نظر سے دیکھا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں جن کا پورا ہونا آپ کی بعثت ثانی کے ساتھ مقدر تھا خدا تعالیٰ نے بعثت ثانی کے وقت ظاہر فرما دیں۔قار مکین کو ہم دعوت دیتے ہیں کہ اگر وہ دیکھیں کہ حضرت مرزا صاحب کس قدر محمد رسول اللہ کے خادمانہ اور غلامانہ عشق میں مگن ہیں تو وہ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ آپ پر آنحضرت کی شان میں گستاخی کا دور کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔زیر نظر معالمہ کی مزید وضاحت خود مرزا صاحب کی اس عبارت میں موجود ہے۔البتہ مولوی صاحب جس طرح کتر کیوانت سے کام لیتے ہیں اس سے مولوی صاحب کی خصلت کا پتہ چل جائے گا۔جو قابل اعتراض بات انہوں نے نکالی ہے وہ تو حضرت مرزا صاحب نے رسول اللہ کے دفاع میں ایک عارفانہ حربے کے طور پر تحریر کی ہے۔اگر لدھیانوی صاحب اسی عبارت سے منسلکہ تھوڑی سی پہلی عبارت بھی درج کر دیتے تو ان کے اعتراض کی عمارت خود بخود منہدم ہو جاتی۔حضرت مرزا صاحب نے یہاں کئی ایک مثالیں پیش کی ہیں جن کی وجہ سے دشمن اعتراض