راہ ھدیٰ — Page 125
۱۲۵ میں غلطی کر سکتے۔غلطی کا احتمال صرف ایسی پیشگوئیوں میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالی خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مہم اور مجمل رکھنا چاہتا ہے۔اور مسائل دینیہ سے ان کا کچھ علاقہ نہیں ہوتا۔یہ ایک نہایت دقیق راز ہے جس کے یاد رکھنے سے معرفتِ صحیحہ، مرتبہ نبوت کی حاصل ہوتی ہے۔اور اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موسمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باغ کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو۔اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت کما ھی بھی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی تقسیم بذریعہ انسانی قومی کے ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں اور ایسے امور میں اگر وقتِ ظہور کچھ جزئیات غیر معلومہ ظاہر ہو جائیں تو شان نبوت پر کچھ جائے حرف (ازالہ اوہام صفحہ ۶۹۰ - ۶۹۱ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۳٬۴۷۲) نہیں" پس اس سیاق و سباق کے ساتھ جناب لدھیانوی صاحب زیر نظر عبارت پیش کرتے تو اعتراض قائم ہونے کی کوئی بنیاد ہی نہ تھی۔عقیدہ نمبر ۸ صرف چاند - چاند اور سورج دونوں اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے اعجاز احمدی صفحہ اے سے عربی کا ایک شعر مع ترجمہ لکھا ہے وہ ترجمہ یوں ہے " اس (یعنی نبی کریم ) کے لئے (صرف) چاند کے گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں ) کے گرہن ) کا اب تک تو انکار کرے گا (صفحه ۳۶) جناب مولوی صاحب اتنے کو رباطن انسان ہیں کہ انہیں پتہ نہیں چلتا کہ اعتراض کس پر کر رہے ہیں حقیقت میں مولوی صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر اعتراض کر رہے ہیں تمام علماء جانتے ہیں کہ چاند سورج گرہن کی پیشگوئی حضرت مرزا صاحب نے نہیں