راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 122 of 198

راہ ھدیٰ — Page 122

۱۲۲ سے جو نئے علوم پیدا ہوئے ہیں ان سے جب بھی اسلام پر حملہ کیا جاتا ہے تو قرآن کریم میں کافی و شافی دلائل موجود ہوتے ہیں اور جس قدر یہ علوم پھیلتے چلے جاتے ہیں قرآن کریم کے باطنی علوم کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ان پر اگر مولوی صاحب کی نظر نہیں تو اس کا کیا علاج ہے ؟ یہ مضمون تو شانِ قرآن بڑھانے والا ہے نہ کہ اس کی شان میں گستاخی ہے۔عقیدہ نمبرے حقائق کا انکشاف لدھیانوی صاحب یہاں یہ اقتباس پیش کرتے ہیں۔اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یا جوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابتہ الارض کی ماہیت ہی ظاہر فرمائی گئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں (مگر بعثت ثانی میں مرزا صاحب پر یہ حقائق پوری طرح منکشف ہو گئے " ہے (ازالہ اوهام صفحه ۶۹۱ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۳) لدھیانوی صاحب نے اعتراض بنانے کے لئے عبارت کے آگے بریکٹ میں اپنی طرف ، فقرہ درج کر دیا ہے تا اعتراض بن جائے کیونکہ اس فقرہ کے اضافے کے بغیر اعتراض بنتا ہی نہیں۔قارئین کرام اس عبارت کو دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔یہ لفظ " اگر " سے شروع ہو رہی ہے اور کچھ تعجب کی بات نہیں " پر ختم ہو رہی ہے۔اس میں مرزا صاحب نے یہ نہیں بیان فرمایا کہ ان امور کی حقیقت وحی الہی نے آپ کو نہیں بتلائی بلکہ لفظ اگر سے عبارت شروع ہو رہی ہے کہ اگر خدا نے نہ بتائی ہو اور آپ کی بعثت ثانی میں ظاہر ہو گئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔معزز قارئین! اصل بات یہ ہے کہ اس عبارت کے سیاق و سباق میں مرزا صاحب یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ مستقبل کے بارے میں جو پیشگوئیاں ہوتی ہیں ان کے بارے میں یہ تفصیل کہ وہ کب اور کیسے پوری ہونگی یہ ساری تفصیل اللہ تعالی بعض اوقات اپنے نبیوں کو