راہ ھدیٰ — Page 121
۱۲۱ سکتے ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے" (ازالہ اوہام حصہ اول صفحه ۱۳۷ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۰) عقیدہ نمبر ۶- ظہور کی تکمیل اس عنوان کے تحت لدھیانوی صاحب نے درج ذیل اقتباس درج کیا ہے۔" قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں وہ سید نا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نازل ہوا۔اور صحابہ رضی اللہ عنمم کے ذریعہ اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود ( مرزا غلام احمد ) کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے۔ولكل امر وقت معلوم۔اور جیسا کہ آسمان سے نازل ہوا تھا ویسا ہی آسمان تک اس کا نور پہنچا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی " ( براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۵۲) اس عبارت میں بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔تینوں چیزیں وہی ہیں جو پوری امت مسلمہ کے نزدیک مسلمہ ہیں صحابہ جن کے ذریعے جو خدمت قرآن ہوئی۔اس کے نتیجہ میں صحابہ کی شان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ثابت نہیں ہوتی۔کیونکہ آپ کے فیضان کے نتیجے میں صحابہؓ کے ذریعہ اس کی اشاعت ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں جو خدمت قرآن ہو گی اور مخالفین اسلام کے اس میں قرآن کریم کی تعلیمات پر اعتراضات اور وساوس پیدا کرنے کے نتیجہ میں قرآنی تعلیمات کی جو حکمتیں ، اسرار اور فضائل کا ظہور ہو گا اور وسائل کی فراوانی کے سبب پوری دنیا میں اسرار قرآنی پھیلیں گے تو اس کے نتیجہ میں مسیح موعود کی شان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کے نتیجہ میں ہی مسیح موعود کے ذریعہ مسیح موعود کے زمانہ میں یہ خدمت قرآن ہو گی۔سمجھ نہیں آتی کہ مولوی صاحب کو اس میں اعتراض کی کونسی بات نظر آئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن پڑھتے ہی نہیں ورنہ قرآن کی آیت ہے جو قرآن کریم کے بارے میں بتاتی ہے ان من فی الا عند ناخز انند و ما ننزله الا بقدر معلوم بے شمار خزائن ہیں جو زمانہ کے مطابق ظہور کرتے ہیں اسی قرآن کریم میں نہ کسی اور کتاب میں بدلتے ہوئے زمانے کے لحاظ