راہ ھدیٰ — Page 118
IA خبر لے لیا کریں کیا کوئی تصور بھی کر سکتا ہے کہ کسی جرنیل کے کسی ماتحت کی فتوحات کو جرنیل کے مقابل پر پیش کیا جائے یا کسی جرنیل کی فتوحات کو فرمانروائے سلطنت کے مقابل پر پیش کر کے اس کا رتبہ بڑھایا جائے۔محض جہالت اور تعصب کی باتیں ہیں اس کے سوا ان کی کوئی حیثیت نہیں کیا حضرت عمر کے زمانے میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح یا حضرت سعد بن ابی وقاص وغیرہ اپنی فتوحات کو حضرت عمرہ کے مقابل پر پیش کیا کرتے تھے یا خلفاء راشدین کو جو فتوحات ہوئیں وہ آنحضرت کے مقابل پر پیش کی گئیں؟ یہی جماعت احمدیہ کا مسلمہ عقیدہ ہے جو تمام دنیا کے احمدیوں کا اٹل اور غیر متزلزل اعتقاد ہے۔پس ایسی پاک جماعت اور اس کے پاک امام پر ایسے بیہودہ خیالات اپنی طرف سے پیش کر کے ناپاک حملے کرنا شرفاء کو زیب نہیں دیتا۔عقیدہ نمبر ۴ زمان البركات اس عنوان کے تحت یہ اقتباس دیا گیا ہے۔غرض اس زمانہ کا نام جس میں ہم ہیں زمان البرکات ہے ، لیکن ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع البلیات تھا۔" (اشتہار ۲۸ مئی ۱۹۰۰ء تبلیغ رسالت صفحه ۴۴ ج ۵) اس عبارت میں بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے صرف یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام اور اہل اسلام کو کفار کی جانب سے بڑے خطرات تھے اور ہر وہ شخص جو مسلمان ہوتا اس پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے تھے چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کی زندگی میں ان مصائب کو دور کیا اور کفار کے بالمقابل آپ کو اپنی تائیدات سے نوازا لیکن مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام کے مخالفین اسلام کی تعلیمات میں اپنے دلائل اعتراضات اور وسادس کے ذریعہ خامیاں اور عیوب تلاش کرتے ہیں اس لئے اس زمانہ میں اللہ تعالی اسلامی تعلیم کی خوبیاں اس کی حکمتیں اور برکات کا اظہار کر رہا ہے۔یہ مضمون ہے جس کو مختلف عنادین کے تحت پیش کر کے عامتہ الناس کی نظر سے چھپایا جا رہا ہے۔کوئی قاری اگر اس عنوان کے تابع مضمون پڑھ لے تو اس کے علاوہ اسے کوئی اور مضمون دکھائی نہ دے گا۔