راہ ھدیٰ — Page 113
کہ یہ وعدہ مسیح موعود کے زمانہ میں پورا ہو گا۔امام فخر الدین رازی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں ” روی عن ابی هریره رضی الله عنه انه قال هذا و عد من الله بانه تعالى يجعل الاسلام عاليا على جميع الاديان و تمام هذا انما يحصل عند خروج عیسی و قال السدى ذلك عند خروج المهدی ( تفسیر رازی جزو نمبر ۱۶ تفسیر سوره توبه صفحه ۴۰ زیر آیت هذا زیر عنوان الوجه الثانی) ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت میں وعدہ ہے کہ اللہ تعالٰی تمام دینوں پر اسلام کو غالب کرے گا اور اس وعدہ کی تکمیل مسیح موعود کے وقت میں ہوگی ، اور سدی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ مہدی موعود کے زمانہ میں ہو گا۔تفسیر قرطبی میں لکھا ہے " قال ابو هريرة و الضحاك هذا عند نزول عیسی علیہ السلام و قال السدی ذاک عند خروج المهدى" ( تفسیر قرطبی جزو نمبر ۸ سورۃ توبه زیر آیت هذا صفحه ۱۲۱) کہ حضرت ابو ہریرہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ یہ وعدہ نزول مسیح کے وقت پورا ہو گا اور سندی کہتے ہیں کہ ظہور مہدی پر یہ وعدہ پورا ہو گا۔پس اگر امام مہدی اور موعود عیسی کے زمانہ میں مقصد اسلام پایہ تکمیل کو پہنچے تو یقیناً محمد رسول اللہ کی شان اقومی اور ارفع ہو کر دنیا میں ظاہر ہوگی نہ کہ خود عیسی اور مہدی کی شان اقومی اور ارفع ہو گی۔پس جب بھی جماعت احمدیہ کے علم کلام میں ایسا کلام ملتا ہے وہاں بلاشبہ اور بغیر شک کے ہمیشہ یہی مراد ہوتی ہے کہ جب بھی رسول اللہ کا دین اکمل اور ارفع ہو گا اور مہدی اور عیسی کے زمانہ میں قرآنی پیشگوئی کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین پوری شان سے ادیان باطلہ پر غالب آئے گا۔تو یہ دور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کو پہلے سے بڑھ کر روشن اور قوی کر کے ظاہر کرے گا۔غالبا اس مضمون کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حدیث اشارہ فرما رہی ہے کہ میری امت کی مثال اس بارش کی طرح ہے کہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا پہلا حصہ بہتر ہے