راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 112 of 198

راہ ھدیٰ — Page 112

لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہ کی آیت کے متعلق فرماتے ہیں۔و ظاہر است که ابتدائے ظہور دین در زمان پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم بوقوع آمده و اتمام آن از دست حضرت مهدی واقع خواهد گردید منصب امامت از مولانا محمد اسماعیل شهید صفحه ۷۰ مطبوعہ آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور ۱۹۶۷ء ) یعنی ظاہر ہے کہ دین کی ابتداء حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی لیکن اس کا "3 اتمام مہدی کے ہاتھ پر ہو گا۔پھر آیت قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ اللَيْكُمْ جَمِيعًا کے ماتحت لکھتے ہیں :- و ظاهر است که تبلیغ رسالت به نسبت جمیع ناس از آنجناب متحقق نگشته بلکه امر دعوت از شروع گردیده یوما فیوما بواسطه خلفاء راشدین و ائمه مهد ببین رو به تزاید کشید تا اینکه بواسطه امام مهدی با تمام خواهد رسید" منصب امامت صفحه ای از مولانا سید محمد اسماعیل شهید آئینہ ادب چوک مینار انار کلی لاہور ۱۹۶۷) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمام لوگوں کو نہیں ہوئی بلکہ آہستہ آہستہ خلفاء راشدین اور دیگر ائمہ کے ذریعہ بڑھتی رہی اور اب امام مہدی کے ذریعہ اس کی تکمیل ہوگی۔المُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِہ کی آیت قرآن کریم میں تین مقامات پر آئی ہے سورۃ توبہ آیت نمبر ۳۳ سورة الفتح آیت نمبر ۲۹ اور سورۃ الصف آیت نمبر 10 ہم بعض پرانی تفاسیر کے حوالہ جات مذکورہ بالا تشریح کی تائید میں یہاں درج کرتے ہیں تا قارئین کو اس کے مضمون کی بابت اندازہ ہو سکے۔تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے " و ذلك عند نزول عیسی علیہ السلام" (الجزء العاشر سورۃ توبہ صفحہ ۷۷ زیر آیت (هذا) یعنی اکثر مفسرین اس امر کے قائل ہیں کہ یہ وعدہ مسیح موعود کے زمانہ میں پورا ہو گا۔پھر ایک اور جگہ لکھتے ہیں ” و قبل ان تمام هذا الاعلاء عند نزول عيسى" (روح المعانی جزو نمبر ۳۶ سورة الفتح صفحه ۱۲ زیر آیت (هذا)