راہ ھدیٰ — Page 114
یا دوسرا۔(مسند احمد بن حنبل جلد ثالث صفحه ۱۳۰ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ) بہت ہی نجی انسان ہو گا جو اس حدیث کا یہ مطلب نکالے کہ بارش کا کوئی حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ نہیں گیویا اول بارش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دور اور آخر بارش کسی اور کا دور ہے اور وہ حصہ محمد رسول اللہ کے حصہ سے افضل ثابت ہو گا۔اس عارفانہ حدیث کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں نکل سکتا کہ پہلا دور با برکت ثابت ہو یا آخری دونوں صورتوں میں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتوں والی بارش ہی ہوگی۔پس آخری دور میں یہ فتح بھی ہر چند کہ وہ فتح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے ذریعہ ہو اس کا سہرا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی سر ہو گا۔اس طرف حضرت مرزا صاحب کا یہ الہام اشارہ فرما رہا ہے۔" بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنا ر بلند تر محکم افتاد " مسیح موعود علیہ السلام نے اس عمارت کی بنا ڈال دی ہے کہ جو خواہ کتنی بھی بلند ہو اس کی رفعتوں پر ہمیشہ محمد رسول اللہ کا قدم رہے گا۔اور اس کی بلندی سے محمد رسول اللہ کا بلند تر مقام دنیا میں ظاہر ہوتا چلا جائے گا۔عقیدہ نمبر ۲ روحانی ترقیات کی ابتدا اور انتہاء اس عنوان کے تحت درج ذیل اقتباس درج کیا گیا ہے۔" ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ (مکہ میں ) ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کی انتہا کا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت ( قادیان میں ) پوری تجلی فرمائی۔(خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۷)