راہ عمل — Page 79
۸۰ جب تک خدا تعالٰی کے فضل کے ساتھ اس کی دعوت کو پھل لگتے نہ لگ جائے۔عہدے داران کے فرائض : جہاں تک عہدے داران کا تعلق ہے۔خواہ میں ان کی جواب طلی تے کروں۔ان کو ہرگز بھولنا نہیں چاہئے کہ اگر وہ اس بات کو بھول جائیں گے تو جماعت بھی بھول جائے گی عمدے داران پر بہت بھاری ذمہ داری عائکہ ہوتی ہے کہ وہ خود بھی یاد رکھیں اور بار بار پلٹ پلٹ کر جماعت کے حالات کو دیکھتے رہیں کہ کس حد تک کام آگے جاری ہے۔یہ عمو گاید زمان پایا جاتا ہے کہ عہدیداران چند آدمیوں کے نیک کام کو اپنی رپورٹ میں سمیٹتے ہیں۔ان کی حالت آسٹریلیا کے قدیم باشندوں Aborigines کی طرح ہے وہ خود محنت کر کے چیز اگانے کی بجائے قدرت جو پھل دیتی ہے اس کو سمیٹنے والے لوگ تھے مارے اکثر منتظمین کام سمیٹ رہے ہیں۔خدا تعالٰی نے اپنے فضل سے جہاں دو چاریا دس داعی الی اللہ دے دیتے ہیں ان کی رپورٹوں کو سمیٹ کر ان کی رپورٹ مزین اور خوبصورت ہو جاتی ہے اور مرکز کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا ساری جماعت بڑا اچھا کام کر رہی ہے۔دیکھیں اتنا اچھا پھل لگ گیا۔حالانکہ بعض اوقات جو داعی الی اللہ ہیں ان کو بنانے میں ان کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔داعی الی اللہ کا کام یہ ہے کہ خود اپنی زمینیں بنائے اس کا کام یہ ہے کہ کاشت کی نئی کھیتیاں پیدا کرے۔اس کا کام یہ ہے کہ نئے درخت لگائے اور پھر خدا تعالیٰ کے سامنے صاف دل کے ساتھ پیش ہو کر کہے اے خدا ! اس سال میری محنت کا یہ پھل ہے۔میں نے کوشش کی تو نے اپنے فضل کے ساتھ مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں نے تیری راہ میں نئے کھیت اگائے ہیں اور تیری راہ میں نئے باغ لگائے ہیں پس دعوت الی اللہ کے باغ اور کھیت اگانا یہ عہدے داران کا کام ہے یہ محض نصیحت سے نہیں ہو گا۔یہ محض یاد دھانی سے بھی نہیں ہو گا۔یہ ساتھ لگ کر کام سکھانے سے ہوتا ہے۔ان میں بعض عادتیں واضح کرنے سے ہوتا ہے بعض لوگوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگانے اور پھر ان کے ساتھ پیار کا تعلق قائم کرنے ان کے دلوں میں کام کی محبت پیدا کرنا یہ ایک فن ہے اور اس فن کے متعلق قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے نہایت ہی عمدہ اصولی روشنی ڈالی ہے جس سے ہمیں استفادہ کرنا چاہیے۔۔۔