راہ عمل — Page 80
دعوت الی اللہ کے ضمن میں قرآن مجید کی اصولی راہنمائی: حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالٰی نے جو طریق تبلیغ و تربیت کا بتایا اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ہر مرلی ہر داعی ہر امیر ہر صدر اور ہر متعلقہ عہدے دار کو خواہ وہ سیکرٹری اصلاح و ارشاد ہو یا جس حیثیت سے بھی اس کام ہے اس کا تعلق ہے اس کو چاہیے کہ جماعت کے بعض افراد کو کپڑے اور نصر من ایک کے تابع ان کو اپنے ساتھ وابستہ کرے۔اپنے ساتھ ملا کر ان سے پیار و محبت کا تعلق قائم کر کے ان کی تربیت کرے۔تھوڑے تھوڑے کام ان کے سپرد کرے پھر ان کو دنیا میں پھیلا دے۔اور ان کے ذریعہ احیائے موتی کا کام لے۔پھر دوبارہ کل آٹھ دس۔یا میں نوجوان پکڑے جتنی بھی خدا توفیق بڑھاتا چلا جائے۔اس کے مطابق ان کو لے کر ان کی طرف توجہ کرے چند مہینے ان کے ساتھ محنت کرے۔پیار اور محبت کے ساتھ ان کو طریقے سمجھائے اور جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے تو پھر اپنے کام وہ خود سنبھال لیں گے اس طرح ہر وقت پہلے سے بڑھتی ہوئی تعداد پیش نظر رہنی چاہیے ذہن پر یہ بات مسلسل حاوی رہنی چاہیے کہ ہر جماعت میں دعوت الی اللہ کرنے والے پہلے سے ہوتے ہیں یا نہیں۔کیا میں اپنی تعداد پر بڑھے راضی ہوں۔یا میں عمدہ کوشش کر رہا ہوں۔کہ پہلے سے تعداد بڑھتی چلی جائے۔جن کو دعوت دی جاتی ہے ان کے طبقات اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جن لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے ان میں کتنے طبقات ہیں اور کیا ہر طبقے کی طرف ہم متوجہ ہیں یا نہیں ہر طبقے کے اپنے اپنے حالات ہیں ہر طبقہ مزاج کے لحاظ سے یکساں مذہبی نہیں۔آپ جب بھی کسی نئے طبقے کی طرف توجہ کریں تو دوباره از سرنو داعی کو یا امیر کویا جو بھی عہدے دار ہے اس طبقہ کو ملحوظ رکھ کر نئی محنت کرنی ہو گی جائزہ لینا پڑے گا کہ لٹریچر موجود ہے یا نہیں۔کیسٹس موجود ہیں یا نہیں دیگر معلومات جو گفتگو کے دوران چاہیں وہ ان لوگوں کے پاس موجود ہیں یا نہیں۔جس طبقہ انسانیت کی طرف توجہ ہے ان کے حالات سے وہ آگاہ ہیں یا نہیں۔پھر قیدی ہیں کئی جرموں کے نتیجہ میں اور کئی بغیر جرم کے قید ہو جاتے ہیں ان کو قید کے دوران اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے اس