راہ عمل — Page 65
۶۶ کا اپنے لئے ہی اچھا ہوتا ہے کہ وہ بدلہ نہ لیا کریں خصوصا دینی مقابلوں میں اور ہر معاملے میں صرف نظر سے کام لیتے چلے جائیں اور اپنی برداشت اور حوصلے کے پیمانے بڑھاتے چلے جائیں۔ادع الی سبیل ریک جو واحد سے شروع ہوا تھا اس نے اجتماعیت اختیار کر لی اس لئے میں نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ تبلیغ کا یہ کام صرف محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک محدود نہیں بلکہ آپ کے مانے والوں پر بھی فرض ہے۔واصبر و ما صبرک الا باللہ فرمایا اے محمد " تجھے ہم یہ نہیں کہتے کہ اگر تو چاہے تو بدلہ لے لے اور چاہے تو صبر کر لے تیرے لیے یہ ارشاد ہے کہ واصبر تو نے میر ہی کرتا ہے۔۔۔۔۔فرماتا ہے۔اے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو صبر ہی کرتا چلا جا۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تو پہلے ہی اللہ تعالی کی خاطر صبر کر رہا ہے جس اس راستے سے کبھی ہمنا نہیں کیونکہ یہی بہترین راستہ ہے صبر دو قسم کے ہوا کرتے ہیں ایک غصہ کا صبر اور ایک غم کا صبر۔فرماتا ہے ولا تحزن عليهم وہ غصہ والا صبر نہیں وہ تو غم والا صبر ہے۔غصہ تو حضرت محمد" کے قریب بھی نہیں چھاتا۔پس ہم نے اس کی پیروی کرنی ہے۔جس کے صبر میں غصہ کا نام و نشان بھی نہیں تھا وہ تو سگی ماں والا صبر کرنے والا انسان ہے بلکہ ان سے بھی بڑھ کر صبر کرنے والا وہ تو ان لوگوں کے غم میں اپنی جان ہلکان کر رہا ہوتا ہے۔جو اس کی بات کو نہ مان کر اپنا نقصان کر رہے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولا تحزن عليهم تم میں سے ہر ایک داعی ہے :۔پس میں تمام احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ تمام دنیا کے انسانوں کو خدائے حی و قیوم کی طرف بلائیں۔مشرق کو بھی بلائیں اور مغرب کو بھی بلائیں۔کالے کو بھی بلائیں اور گورے کو بھی بلائیں۔عیسائی کو بھی لائیں اور ہندو کو بھی بلائیں بھٹکے ہوئے لوگوں کو بھی بلائیں اور دہریوں کو بھی بلائیں۔مشرقی بلاک کو بھی بلانا آج آپ کے سپرد ہے اور مغربی بلاک کو بھی بلانا آج آپ کے ذمہ لگایا گیا ہے۔یہ آپ ہی ہیں جنہوں نے دنیا کو موت کے بدلہ زندگی بخشتی ہے۔اگر آپ نے یہ کام نہ کیا تو مرنے والے مر جائیں گے اور اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔اس لیئے اسے محمد کے غلامو! اور اے دین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متوالو! اب اس خیال کو چھوڑ دو کہ تم کیا کرتے ہو اور تمہارے ذمہ کیا کام لگائے گئے ہیں تم میں سے ہر ایک داعی۔