راہ عمل — Page 66
۶۷ ہے اور ہر ایک خدا تعالٰی کے حضور جواب وہ ہو گا۔تمہارا کوئی بھی پیشہ ہو کوئی بھی تمہارا کام ہو دنیا کے کسی خطہ میں بس رہے ہو۔کسی قوم سے تمہارا تعلق ہو۔تمہارا اولین فرض یہ ہے کہ دنیا کو محمد کے رب کی طرف بلاؤ اور ان کے اندھیروں کو نور میں بدل دو اور ان کی موت کو زندگی بخش دو۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ہر احمدی داعی الی اللہ بنے ) خطبه جمعه ۲۵ فروری ۶۱۹۸۳ ) میں بار بار اعلان کر رہا ہوں کہ داعی الی اللہ ہو۔دنیا کو نجات کی طرف بلاؤ۔دنیا کو اپنے رب کی طرف بلاؤ۔درنہ اگر بے خدا انسان کے ہاتھ میں دوسروں کی تقدیر چلی جائے تو ان کی ہلاکت یقینی ہو جاتی ہے۔پس ہر احمدی بلا استثناء داعی بنے وہ وقت گزر گیا جب چند داعیان پر انحصار کیا جاتا تھا اب تو بچوں کو بھی داعی بننا پڑے گا بوڑھوں کو بھی دائی بننا پڑے گا یہاں تک کہ بستر پر لیٹے ہوئے بیماروں کو بھی دائی بنا پڑے گا اور کچھ نہیں وہ دعاؤں کے ذریعہ دعوت کے جہاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔دن رات اللہ سے گریہ و زاری کر سکتے ہیں کہ اے خدا ہم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم چل پھر کر دعوت دے سکیں اس لیے بستر پر لیٹے لیٹے تجھے سے التجاء کرتے ہیں کہ تو دلوں کو بدل دے اور ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لیں اور اس جذبے کے ساتھ کام شروع کر دیں تو مجھے بصد یقین ہے کہ دنیا کی ہلاکت کی تقدیر اللہ کے فضل سے مل جائے گی۔دعا ہر احمدی بہر حال اس بات سے اپنی دعوت کا آغاز کر دے کہ فوری طور پر سنجیدگی کے ساتھ دعا کرے اور روازانہ پانچوں وقت اس کو اپنے پر لازم کرے وہ خدا سے یہ التجا کرے کہ اے خدا ہمیں یہ توفیق عطا فرما کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر سکیں اور تیری نظر میں داعی الی اللہ بننے کا جو حق ہے اس کو ادا کرنے لگ جائیں اور اے خدا دنیا کو بھی یہ توفیق عطا فرما کہ وہ ہماری باتوں کو سنے۔لوگوں کے دل نرم ہوں۔ان کی عقلیں