راہ عمل

by Other Authors

Page 46 of 89

راہ عمل — Page 46

جب خدا تعالٰی سے یہ عرض کی کہ۔۔۔اے خدا ! تو مجھے اس بات پر مامور تو کر چکا ہے کہ ! پر میں مردوں کو زندہ کروں۔اب تو نے ہی زندہ کرتا ہے تو بتا تو سہی کہ مردوں کو کیسے زندہ کرے ؟ تو اللہ تعالٰی نے جو مثال دی اس میں سنکتے کی جو بہت اہم بات بیان فرمائی گئی۔وہ یہ تھی کہ پرندوں کو لو۔چار پرندوں کو پکڑ۔۔۔بعض مفسرین بیچارے اب تک یہی سمجھتے ہیں کہ "مر " کا مطلب ہی قیمہ کر دو اور قیمہ کر کے چاروں طرف پہاڑیوں پر پھینک دو۔حالانکہ " صر" کا مطلب ہے یہ ہے کہ مانوس کر لو۔اگر قیمہ کرنا ہو تو " الیک " کا کیا مطلب ؟ " اپنی طرف قیمہ کر لو " کیا ہوا ؟ مانوس بنانا ہو تو اس کے ساتھ الیک " کا صلہ لگتا ہے کہ ہاں ! اپنی طرف مانوس کر لو اپنے ساتھ مانوس کر لو۔تو اس لئے اس کے سوا کوئی معنی ہوہی نہیں سکتا۔فرمایا کہ دیکھو ! جب تم پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کر لیتے ہو تو تمہاری آواز کا جواب دیتے ہیں۔ان کو مختلف سمتوں میں پہاڑیوں پر چھوڑ بھی آؤ تب بھی وہ تمہاری آواز پر اڑتے ہوئے تمہارے قدموں میں پہنچ جائیں گے۔ای طرح انسانی روحوں کی تشخیص ضروری ہوا کرتی ہے ورنہ ( دعوت الی اللہ ) کامیاب نہیں ہو سکتی ورنہ مردے زندہ نہیں ہو سکتے۔یہ دنیا جو مادہ پرست ہو چکی ہے اس کی مثال مردوں کی سی ہے اور یہ وہ مردے ہیں جن کو زندہ کرنا آپ کا کام ہے اور زندہ کرنے کی رکیب خدا تعالی نے سکھا دی ہے۔بجائے اس کے کہ بازاروں میں پھر کے صرف لٹریچر تقسیم کر دیا یا اسٹال لگا کے گھر آگئے کہ جی! ہم نے برونی ( دعوت الی اللہ ) کر دی۔یا ویسے ہی بے ترتیب ، بغیر کسی سلیقے کے بغیر کسی پروگرام کے بھٹیں چھیڑ دیں۔اس کا نام (دعوت الی اللہ ) نہیں ہے۔" مرھن " کے بغیر ( دعوت الی اللہ ) کامیاب نہیں ہو سکتی۔داعی الی اللہ کو مسلسل پیار سے کام لینا چاہئے پس آپ کو ہر داعی الی اللہ کو لازما" اپنے ایسے دوست بنانے ہوں گے جن کے ساتھ اس کو مسلسل پیار کرنا ہو گا۔بہت محبت کا سلوک کرنا ہو گا۔اس کی خدمت کرنی ہو گی۔ایسے دوست کو اپنے قریب کرنا ہو گا یہاں تک کہ وہ آپ کی دنیاوی آواز پر لبیک