راہ عمل — Page 45
ارشادات حضرت خلیفة المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز O☆O☆O دعوت الی اللہ کی کامیابی کے طریق خدا تعالی کی توفیق کے بغیر ہم اس دنیا کے حالات بدل نہیں سکتے جس دنیا میں آپ اس وقت یہاں موجود ہیں۔اس دنیا کو آج دلائل سے بڑھ کر خدا والوں کی ضرورت ہے لوگ با رہا مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم ( دعوت الی اللہ ) کیسے کریں ؟ ہم ( دعوت الی اللہ ) کرتے تو ہیں مگر اثر نہیں دکھاتی ( دعوت الی اللہ ) دی اثر دکھاتی ہے جو خدا والے کی ) دعوت الی اللہ ) ہو۔جو ان تجارب سے گزرا ہوا ہو۔جانتا ہو کہ ایک خدا ہے۔وہ جانتا ہو کہ وہ خدا اس کے ساتھ ہے۔باہر اس کے پیار اور قرب کے جلوے دیکھ چکا ہو۔اس کی بات میں وزن ہوتا ہے۔اس کی بات کو قوت عطا کی جاتی ہے۔اس کی بات میں گھرا اثر رکھا جاتا ہے۔پس یہ باتیں جو میں نے آپ کو بتائی ہیں ان پر آپ قائم ہو جائیں اور پھر ( دعوت الی اللہ ) کریں اور درد دل سے (دعوت الی اللہ ) کریں کو اچھے دوستوں کو تلاش کریں اور ان کے ساتھ تعلقات بڑھائیں کیونکہ (دعوت الی اللہ ) کا ایک اور بھی بہت اہم گر ہے جسے آپ کو لازماً سیکھنا چاہئے کہ ( دعوت الی اللہ ) راستہ چلتے بیچ کا چھٹا کا دینے کا نام نہیں ہے بلکہ بڑی گہری حکمت کے ساتھ ایسی کاشت کا نام ( دعوت الی اللہ ) ہے جس کی انسان پھر مسلسل حفاظت کرتا ہے جو اس کے اپنے دائرہ اختیار میں ہوتی ہے ورنہ بیج پھیلانا تو کوئی ( دعوت الی اللہ ) نہیں ہے۔آپ دنیا میں زرخیز سے زرخیز علاقے میں بیچ پھیلاتے چلے جائیں۔پیچھے پیچھے پرندے اس پیج کو جگتے چلے جائیں گے کبھی پانی کا فقدان ہو گا۔کبھی کسی پھیلا ئیں گے وہ پیچھے سے اور چیز کا نقصان ہو گا اور جو بیچ آ ضائع ہوتا چلا جائے گا۔لیکن وہ بیج کام کا بیج ہوا کرتا ہے جسے ایک انسان اپنے کھیت میں اگاتا ہے جو اس کے قبضے میں ہوتا ہے۔اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے ہر روز اس کی پرورش کرتا ہے اس کے ساتھ مانوس ہو جاتا ہے اس کو اپنے ساتھ مانوس کرتا ہے اور یہی وہ کچی ( دعوت الی اللہ ) ہے جو پھل دیتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے