راہ عمل

by Other Authors

Page 47 of 89

راہ عمل — Page 47

کہنے کا اہل ہو جائے ایسا شخص آپ کی روحانی آواز کا بھی جواب دے گا۔یہ نکتہ ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔میں اچھے شریف لوگوں سے دوستیاں کریں اور امر واقعہ یہ ہے کہ دوستیاں ہم مزاج سے ہی ہوا کرتی ہیں۔اس سے ایک اور بات یہ سمجھ آگئی کہ جن کے مزاج مختلف ہیں ان پر آپ کیوں وقت ضائع کرتے ہیں۔جن کے مزاج ہی اور طرح کے ہیں ان کے ساتھ سر ٹکرانا اور فضول بخشیں کرنا اپنے وقت کا ضیاع ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق ان کے ساتھ سر کرانا ایسا ہی ہے جیسے سٹور کے سامنے موتی پھینک دئے جائیں۔سور کو موتیوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔۔۔یہ مضمون بھی سمجھ آگیا کہ ہم مزاج لوگ تلاش کرو ایسے جو تمہارے مزاج سے ملتے جلتے ہیں۔ان سے پیار بڑھاؤ۔ان سے تعلقات قائم کرو۔ان سے دوستیاں لگاؤ اور ان کو قریب کرتے ہوئے پھر ان کو زندگی کا پیغام دو۔اللہ تعالٰی وعدہ فرماتا ہے کہ زندہ کرنے والا میں ہوں۔اگر تم ایسا کرو گے تو میں زندہ کروں گا۔پس اس نکتے کو آزمانا چاہیے۔اس نسخ کو پھیلانا چاہیے اور یہ نسخہ خدا والوں کا نسخہ ہے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام خدا والے تھے۔اس لئے ان کے ہاتھ پر یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ایک شخص جو خداوند تعالٰی تعلق نہیں رکھتا اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک پرندہ جس نے خدا کے ساتھ انس اختیار نہیں کیا۔وہ پرندہ جو خدا کی آواز کا جواب نہیں دیتا وہ کیسے توقع رکھ سکتا ہے کہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائے اور لوگ اس کی آواز کا جواب دیں پس پہلے آپ وہ پرندہ بنیں جو خدا سے زندگی حاصل کرے۔سے پہلے آپ وہ پرندہ نہیں جو خدا کی ذات سے مانوس ہو جائے اور اس کی آواز پر لبیک کہنا سیکھیں۔پھر آپ لوگوں کو اپنے ساتھ مانوس کریں۔پھر دیکھیں آپ کی آواز میں خدائی طاقت پیدا ہو جائے گی۔دنیا کی ان روحوں کی مجال نہیں ہو گی کہ ان کا انکار کر سکیں اور ان کے سامنے اباء کر سکیں۔خدا تعالٰی نے ہمیں یہ نسخہ سکھایا ہے کہ اس طرح خدا مردے زندہ کیا کرتا ہے۔پہلے تم زندہ ہو اور پھرای مثال کے پیچھے چلتے ہوئے خدا کے دوسرے بندوں کو زندہ کرنے کی کوشش کرد - اللہ تعالٰی آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور ( دعوت الی اللہ ) کے صحیح طریق بھی سکھائے اور پھر خود اپنے فضل سے ان کو