راہ عمل — Page 31
٣٢ وہ احمدیوں کی محبت پر دوسرے رشتہ داروں کی محبت کو قربان کر دیں۔ایسی محبت احمدی لوگوں سے ہونی چاہئے کہ رشتہ داری کی محبت سے بھی بڑھ جائے حق کی تائید ہونی چاہئے نہیں ہونا چاہئے کہ اگر احمدی کے مقابل میں رشتہ دار آگیا ہے تو۔۔۔۔رشتہ دار کی طرف داری اختیار کرلی جائے۔ہماری قوم ہماری جماعت احمدیت ہے۔پھر اس بات کا احساس پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔کہ دین کا اب سب کام ہم پر ہے جب یہ کام ہم پر ہے تو ہم نے دنیا کے کتنے مفاسد کو دور کرتا ہے۔پھر اس کے لئے کتنی بڑی قربانی کی ضرورت ہے اس بات کو پیدا کرو کہ ہر ایک آدمی داعی الی اللہ ہے صحابہ سبب داعی الی اللہ تھے۔اگر ہر ایک آدمی داعی الی اللہ ہو گا۔تب اس کام میں آسانی پیدا ہو گی۔اس لئے ہر ایک احمدی میں دعوت الی اللہ کا جوش پیدا کرو پھر مالی امداد کا احساس پیدا کرو۔اگرچہ ہماری جماعت کا ایک معیار تو قائم ہو گیا ہے۔کہ فضول جگہوں میں جو روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔مثلا بیاہ شادیوں میں وہ اب دین کے کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔لیکن یہ احساس پیدا ہونا چاہئے۔کہ ضروریات کو کم کر کے بھی دین کی راہ میں روپیہ خرچ کیا جائے۔جماعت کا اکثر حصہ ست ہے۔کچھ لوگ ہیں۔جو بہت جوش رکھتے ہیں لیکن یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آخر میں سارا بوجھ انہی لوگوں پر پڑ کر ان لوگوں میں بھی سنتی آنی شروع ہو جائے گی۔تو ایک حصہ پہلے ہی سنت ہوا دوسرا پھر اس طرح ست ہو گیا تو یہ اچھی بات نہیں۔اس لئے چاہئے کہ جماعت کو ایک پیمانہ پر لایا جائے۔ان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کرو کہ جو نہی یہ دین کے لئے آواز سنیں دوڑ پڑیں۔پہلے داعی اپنی زندگی میں یہ احساس پیدا کریں -۱۴ مسائل کے متعلق غور کرو : جب کوئی اعتراض پیش آوے پہلے خود اس کے حل کرنے کی کوشش کرو۔فوڑا مرکز لکھ کر نہ بھیج دو۔خود سوچنے سے اس کا جواب مل جائے گا۔اور بیسیوں مسائل پر غور ہو جائے گا۔جواب دینے کا مادہ پیدا ہو گا۔ہم سے پوچھو گے تو ہم تو جواب بھیج دیں گے لیکن پھر یہ فائدے تمہیں نہیں ملیں گے اس لئے جب اعتراض ہو خود اس کو حل کرو۔جب حل کر چکو تو پھر تبادلۂ خیالات ہونا