راہ عمل — Page 27
۲۸۔اگر وہ اس کے پاس آئیں گے تو نوکر سمجھ کر نہیں بلکہ ہمدرد سمجھ کر اس وقت پھر وامی " کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں نوکر نہیں۔انہوں نے تو اسے نوکر نہیں سمجھا وہ تو اسے ہمدرد کچھ کر آئے ہیں۔تو یہ دور تک ہونے چاہئیں کہ اگر سب سے بڑا خادم ہو تو ہمارا " داعی " ہو۔اور اگر لوگوں کے دلوں میں کسی کا ادب ہو تو وہ ہمارے "واعی " کا ہو اس کے لئے وہ اپنے مال قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہوں۔دعائیں کرتے رہو۔پھر داعی الی اللہ کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ دعائیں کرتا رہے کہ انہی میں ان لوگوں کو ٹار امتی کی طرف نہ لے جاؤں۔اول کوئی ایسی بات نہ کرے جس پر پہلے سوچا اور غور نہ کیا ہو۔روم دعا کرتا رہے کہ الہی میں جو کہوں وہ ہدایت پر لے جانے والا ہو اگر غلط ہو تو الہی ان کو اس راہ پر نہ چلا۔اور اگر یہ درست ہے تو الٹی توفیق دے کہ یہ لوگ اس راہ پر چلیں۔-۹ جو بدی کسی قوم میں ہو اس کی تردید میں جرات سے لیکچر دو اپنے عمل دیکھتا رہے۔کبھی سستی نہ کرے۔لوگوں کو ان کی غلطی سے رو کے ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالی کے قول کے نیچے آئے تو لا ينهم الربانيون والاحبار عن قولهم الاثم واكلهم السحت لبئس ما كانو ايصنعون وہی لیکچر ہونا چاہئے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو۔ان باتوں پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں جو اچھی باتیں نہیں ہیں یا جو بدیاں ان میں نہیں ہیں اگر وہ لڑکیوں کو حصہ نہ دیں تو اس پر لیکچر درد۔روزے نہ رکھیں تو اس پر نماز نہ ا پڑھیں تو اس پر دو۔زکوۃ ادا نہ کریں تو اس پر وو۔صدقہ خیرات نہ دیں تو اس پر دو۔لیکن جو باتیں ان میں ہیں ان پر نہ دو۔غریبوں پر اگر وہ ظلم کرتے ہیں یا بڑوں کا ادب نہیں کرتے۔چوری کرتے ہیں۔جھوٹ بولتے ہیں اس پر لیکچزور۔لیکن چوری ان میں نہیں ہے اس پر نہ دو۔مرضیں تلاش کرو اور پھر درا دو۔کبھی کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ ہو۔میں اپنا طریقہ بتاتا ہوں میں نے جب دو