راہ عمل — Page 26
۲۷ بلاؤ میاں جی کو وہ اگر اس کی خدمت کریں کھیتی کاٹنی ہو۔تو چلو میاں جی۔لوگ میاں جی سے۔۔۔۔۔۔۔وہ ٹائی دھوبی جس طرح ہوتے ہیں۔اس طرح کام لیتے ہیں دوسری صورت وہ پھر پیروں والی ہوتی ہے۔پیر صاحب چارپائی پر بیٹھے ہیں۔کسی کی مجال نہیں کہ پیر صاحب کے سامنے چارپائی پر بیٹھ جائے۔حافظ صاحب سناتے تھے۔ان کے والد بھی بڑے پیر تھے۔لوگ ہمیں اگر سجدے کیا کرتے تھے۔تو میں نے ایک دفعہ اپنے باپ سے سوال کیا کہ ہم تو مسجد میں جا کر سجدے کسی اور کے آگے کرتے ہیں اور یہ لوگ ہمیں سجدے کرتے ہیں۔اس پر میرے والد نے ایک لمبی تقریر کی۔تو ایک طرف کا نتیجہ میاں چی پیدا ہوئے جو جھوٹی گواہی دینی ہو۔تو چلو میاں جی۔اور اگر انکار کریں تو کہہ دیا کہ تمہیں رکھا ہوا کیوں ہے۔آپ قیامت کے دن کیا خاک کام آئیں گے جو اس دنیا میں کام نہ آئے اور دوسری طرف پیر صاحب جیسے پیدا ہو گئے۔تو دونوں کا نتیجہ خطرناک نکلا یہ بڑی نازک راہ ہے۔داعی الی اللہ خادم ہو۔اور ایسا خادم ہو۔کہ لوگوں کے دل میں اس کا رعب ہو۔خدمت کرنے کے لئے اپنی مرضی سے جائے ڈاکٹر پاخانہ اپنے ہاتھوں سے نکالتے ہیں لیکن کوئی انہیں بھنگی نہیں کہتا۔ڈاکٹر اپنے ہاتھوں سے بنا کر دوائی بھی پلاتے ہیں۔لیکن کوئی انہیں کمپوڈر نہیں کہتا۔وہ بیمار کی خاطر داری بھی کرتے ہیں لیکن کوئی انہیں خادم نہیں کہتا۔یہ اس کی شفقت کبھی جاتی ہے۔اس لئے جب تم میں بھی توکل ہو گا اور تم کسی کی خدمت کسی بدلے کے لئے نہیں کرو گے۔تو پھر تمہاری بھی ایسی ی قدر ہو گی۔وہ شفقت سمجھی جائے گی۔وہ احسان سمجھا جائے گا۔اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کو تشفی دینے والا ہمارا " راعی " ہو۔کوئی بیوہ ہو تو حسب ہدایات شریعت اسلامیہ اس کا حال پوچھنے والا اس کا سودا وغیرہ لانے والا اور اس کے دیگر کاروبار میں اس کی مدد کرنے والا ہمارا " داعی " ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا۔کہ ان کے دلوں میں دو چیزیں پیدا ہوں گی۔ادب ہو گیا اور محبت ہو گی۔تو کل کا نتیجہ ادب ہو گا اور خادمیت کا نتیجہ محبت ہو گی۔ایک داعی " کے لئے ضروری ہے کہ ایک طرف اگر ان میں ذہانت نہ ہو تو دوسری طرف متکبر بھی نہ ہو لوگ نوکر اس کو سمجھیں گے جو ان سے سوال کرتا ہو۔جو سوال ہی نہیں کرتا اس کو وہ نوکر کیوں کر سمجھیں گے