راہ عمل

by Other Authors

Page 28 of 89

راہ عمل — Page 28

٢٩ کبھی کسی کی مرض کے متعلق بیان کرنا ہو۔تو میں دو تین مہینے کا عرصہ درمیان میں ڈال لیتا ہوں۔تاکہ وہ بات لوگوں کے دلوں سے بھول جائے۔تو اتنا عرصہ کر دینا چاہئے۔اگر موقعہ ملے تو اس شخص کو جس میں یہ مرض ہے علیحدہ تخلیہ میں نرم الفاظ کے ساتھ سمجھاؤ۔ایسے الفاظ میں کہ وہ چڑ نہ جائے۔ہمدردی کے رنگ میں وعظ کرو ایک طرف اتنی ہمدردی دکھاؤ کہ غریبوں کے خدمت گار تم ہی معلوم ہو۔دوسری طرف اتنا بڑا بنو کہ تمہیں دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔دو فریق بننے نہ دو۔دو شخصوں کے جھگڑے کے متعلق کسی خاص کے ساتھ تمہاری طرفداری نہ ہو۔کوئی مرض پاؤ اس کی دوا فورا دو۔کسی موقعہ پر چشم پوشی کر کے مرض کو بڑھنے نہ دو۔ہاں اگر اصلاح چشم پوشی ہی میں ہو تو کچھ حرج نہیں۔لوگوں کو وعظ کرو تو اس میں ایک جوش ہونا چاہئے جب تک وعظ میں ایک جوش نہ ہو وہ کام کرہی نہیں سکتا۔سننے والے پر اثر ڈالو۔کہ جو تم کہہ رہے ہو۔اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہو۔اور یہ جو کچھ تم سنا رہے ہو۔یہ تمہیں ورثے کے طور پر نہیں ملا۔بلکہ تم نے خود اسکو پیدا کیا ہے۔تم نے خود اس پر غور کیا ہے۔ٹھٹھے باز نہیں ہونا چاہئے۔لوگوں کے دلوں سے ادب اور رعب جاتا رہتا ہے۔ہاں مذاق نہیں کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کر لیا کرتے تھے۔اس میں ہرج نہیں۔احتیاط ہونی چاہئے سنجیدہ معلوم ہو۔اس میں ہمدردی ہونی چاہئے۔نرم الفاظ ہوں۔سنجیدگی سے ہوں سمجھنے ما منار H والا سمجھے میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔تمہاری ہمدردی وسیع ہونی چاہئے۔داعی الی اللہ کا فرض ہے۔کہ ایسا طریق اختیار نہ کرے کہ کوئی قوم اسے اپنا دشمن سمجھے اگر یہ کسی ہندوؤں کے شہر میں جاتا ہے تو یہ نہ ہو کہ وہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی دشمن آیا ہے۔بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمارا پنڈت ہے۔اگر عیسائیوں کے جائے تو سمجھیں کہ یہ ما را پادری ہے۔وہ اس کے جانے پر ناراض نہ ہوں بلکہ خوش ہوں۔اگر یہ اپنے اندر ایسا رنگ پیدا کرے تو پھر غیر احمدی کبھی تمہارے کسی شہر میں جانے پر کسی مولوی کو نہ بلائیں گے نہ ہندو کسی پنڈت کو اور نہ عیسائی کسی پادری کو۔بلکہ وہ تمہارے ساتھ محبت سے پیش آئیں گے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بڑے بڑے لوگوں کو جو کسی مذہب میں گزر چکے ہوں گالیاں دینے سے روکا ہے۔اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ تمام دنیا کے