رَدْ تَنَاسُخْ — Page 34
لینا اور اُسکا ثبوت یہ دیا ہے۔و حرام على قريبة اهلكناها انهم لا يرجعون حتر انا فتحت یا جوج و ماجوج و هم من كل حدب ينسلون :- اور اس آیت کریمیہ کا یہ ترجمہ کیا ہے۔۔اور مقرر ہو۔ہاہیں ہر بستی پر جسکو ہمنے کھپا دیا کہ وہ نہیں پھر بینگے۔یہاں تک کہ تکھولا جاوے یا جوج ماجوج اور وہ ہر او جان سے پھیلتے آویں پھر کہا ہی۔یا یہ تر جمہ ذرہ صاف نہیں - اسواسطے ہم اسکا انگریزی ترجمہ جو تیل نے کیا ہی۔یہاں لکھتے ہیں۔پھر انگریزی ترجمہ لکھا ہو۔افسوس آپ کو دعوت ہے مگر اتنی سوجھ نہیں کہ مسلمان قرآن کا ترجمہ صاف نہیں کر سکے۔اس لئے آپ کو سیل صاحب کے ترجمہ کی ضرورت پڑی۔خود ہی لفظی ترجمہ کر لیا ہوتا۔پا کسی مسلمان سے پوچھ لیا ہوتا۔آیو۔اگر میں یا کوئی اور مسلمان ولسن ويدك ترجمہ کے رو سے تمیر الزام لگانا چاہے تو کیا انصاف ہو گا۔خیال ہی نہیں۔یہ انصاف کر لو اس آیہ کریمیہ میں اول حرام کا لفظ تحقیق طلب تھا۔مگر تنقیہ کے مصنف نے جس کا تنقیہ خبط کی واسطے مناسب ہے۔جو معنے لئے وہی مناسب اور عمدہ ہیں۔اور وہ معنے کیا ہیں مقرر ہو رہا ہو یا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسکے معنے ہے رضی اللہ واجب کئے ہیں۔ان معنے کا ثبوت کو تفسیر میں مخاطب کیلئے ضرور نہیں یگر قوم کی اسطے بہت مفید ہو گا۔میں اس معنی کی شہاد قرآن کر دیتا ہوں۔کی شہ قل تعالوا اتب ما محمد ديکھو عليكم ان لا تشركو ابن شيخ و بالوالدين احسانا۔(سورۂ انجام پارہ نمبشر) دوسرا لفظ اس آیت کریمیہ میں لا یرجعون ہے۔جسکے مضر ہیں۔اے تو کہ آؤ میں پڑھ دوں تمپر وہ باتیں جو اللہ نے تمہر مقرر کردی کہ واللہ کا کسیکو اور والدین سے سلوک رکہو :