رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 33

اولم يروا ان الله الذي خلق السموات والارض قادر على ان يخلق مثلهم دوسری دلیل یہ دی ہے۔كما بدا نا اول خلق نعيد وعلا علينا انا كنا فاعلين اسكاتر جمركيات جیسا ابتداء سے بنایا ہنی پہلی بار پھر اسکو دھرا دینگے۔وعدہ ضرور ہو چکا ہے۔ہمپر بیشک ہم کر نیوالے ہیں۔مصدق - گر ناظرین یاد رکھیں ان دونوں آیات کریمہ سے تو اتنا نہیں ہوا کہ دنیا کے ختم ہو جانے پر قیامت کے روز لوگ پھر جی اُٹھیں گے۔اور اسلامیوں کو اس بات سے انکار نہیں۔اسبات امرثانی یعنے ایک صورت سے دوسری صورت میں آنا اسکے اثبات میں کہا ہے۔ولقد علمتہ الذین اعتدوا منكم في السبت فقلنا لهم كونو اقردة خائين فجعلناها نكالا لما بين يديها وما خلفها وموعظة للمتقین۔اور اسکا ترجمہ کیا ہے :- اور البتہ جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے زیادتی کی ہفتہ کے دن میں تو کہا ہمنے ہو جاؤ بندر پھٹکارے۔پھر پہنے وہ دہشت رکھی۔اس شہر کے یہ ویبر د والوں کے، اور پیچھے والوں کو۔اور نصیحت رکھی ڈروالوں کو یا قوم عاد بھی بندر بنائی گئی تھی۔ناظرین غور کرو۔یہ آیت کریمہ تو تناسخ کا ابطال کر رہی ہو کیونکہ نظام اور بلحاظ ترجمہ مصنف تنقیہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔کہ یہود جینے جیتے بندر بن گئے تھے۔اور تناسخ ماننے والوں کا اعتقاد یہ ہے کہ جاندار مرکز دوسرے جنم میں ظہور پاتا ہے۔اور انندے لال جی کا یہ اضافہ بھی کہ قوم عاد بھی بندر بنائی گئی پہنی آذین کے قابل ہے۔جسکا اشارہ بھی قرآن واحادیث میں نہیں۔امر ثالث پاپ کرموں کی وجہ سے بار بار نہاروں میں جینم نہ لیا ہیں یہ حکم کہ میں اللہ نے بنا اسمان اور زمین سکتا ہے ایسون کو بنانا۔